سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اندر ایں مسئلہ کہ کیا عورت خلافت لے کر آگے بیعت کر سکتی ہے؟ وضاحت فرمائیں ؟ بینوا تؤجروا۔
جواب
الجواب بعون الملک الوھاب
بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیا
اولیاء کرام کا اس بات پر اجماع ہے کہ داعی الی اللہ کا مرد ہونا ضروری ہے۔ اسی لئے سلف صالحین سے آج تک کوئی عورت نہ پیر بنی نہ بیعت کیا۔ عورت کے لئے پردہ لازم اور ضروی ہے۔ لہذا مذکورہ مسؤلہ صورت میں عورت آگے بیعت نہیں کر سکتی اور عورت کے مقام ولایت کی انتہاء یہی ہے کہ عورت عابدہ، زاہدہ، متقیہ، باپردہ ہو۔
بخاری، ترمذی، نسائی وغیرہ میں۔
والالفاظ من الترمذی قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمْ امْرَأَةً۔(ترمذی رقم الحدیث 2262 ج4ص527)
نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں کہ ہرگز وہ قوم فلاح نہ پائے گی جنھوں نے کسی عورت کو والی بنایا۔
مرقاۃ میں ہے۔
فِي شَرْحِ السُّنَّةِ لَا تَصْلُحُ الْمَرْأَةُ أَنْ تَكُونَ إِمَامًا۔۔۔۔۔وَالْمَرْأَةُ عَوْرَةٌ لَا تَصْلُحُ لِذَلِكَ۔(مرقاۃ ج6ص2406)
امام عارف باللہ سیدی عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ میزان الشریعۃ کتاب الاقضیہ میں فرماتے ہیں۔
قد اجمع اھل الکشف علی اشتراط الذکورۃ فی کل داع الی اﷲ تعالٰی ولم یبلغنا ان احدا من نساء السلف الصالح تصدرت لتربیۃ المریدین ابدا لنقص النساء فی الدرجۃ و ان ورد الکمال فی بعضہن کمریم بنت عمران وآسیۃ امرأۃ فرعون فذٰلک کمال بالنسبۃ للتقوٰی والدین لابالنسبۃ للحکم بین الناس وتسلیکھم فی مقامات الولایۃ، وغایۃامر المرأۃ ان تکون عابدۃ وزاھدۃ کرابعۃ العدویۃ واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ فقط
بیشک اہل کشف نے اجماع کیا ہے اللہ تعالٰی کی طرف بلانے والے کے لئے مردہونا شرط قرار دینے پر، اور نہیں پہنچی کہ ہم کو خبر کہ سلف صالحین کی عورتوں میں سے کوئی عورت مریدین کی تربیت کرنے کے درپے ہوئی ہو ہمیشہ بوجہ عورتوں کے درجہ میں ناقص ہونے کے، اگر چہ ان کے بعض میں کمال وارد ہوا ہے۔ جیسے کہ مریم بن عمران اور آسیہ فرعون کی بیوی، پس یہ کمال تقوٰی اور دین کے لحاظ سے ہے نہ کہ لوگوں کے درمیان حکومت کرنے کی نسبت سے اور ان کو مقامات ولایت میں چلانے کی وجہ سے عورت کی غایت امر یہی ہے کہ وہ عابدہ زاہدہ ہو، جیسا کہ رابعہ عدویہ بصریہ، اور اللہ سبحنہ وتعالٰی سب سے زیادہ علم جاننے والا ہے اور اس کا علم بزرگ تر، اکمل اور مضبوط ہے۔
(میزان الشریعۃ الکبرٰی کتاب الاقضیہ مصطفی البابی مصر ۲ /۱۸۹بحوالہ فتاوی رضویہ فتاوی رضویہ ج21 ص494)۔
فتاوی رضویہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ سے سوال کچھ اس طرح ہوا کہ اگر عورت نیک خصلت پابند شریعت واقف طریقت اپنے ہاتھ پر عورتوں اور مردوں کو بیعت کرنا شروع کردے تو ازروئے طریقت اور شریعت یہ بیعت درست ہے یانہیں؟۔ اس کے جواب میں تحریر فرمایا۔ اولیائے کرام کا اجماع ہے کہ داعی الی اللہ کا مرد ہونا ضرور ہے لہذا سلف صالحین سے آج تک کوئی عورت نہ پیر بنی نہ بیعت کیا۔(فتاوی رضویہ ج21 ص494)
ھذا ماعندنا واللہ اعلم بالصواب
شیر محمد خان مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف
محمد شعیب رکن دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف
تاریخ:۔ 2020۔07۔12