نماز کے بعد دعا مانگنا
الجواب بعون الملک الوھاب بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیانماز کے بعد مقتدیوں کی طرف منہ کرکے دعا مانگنا سنت ہے۔ عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاتِهِ اسْتَغْفَرَ ثَلَاثًا وَقَالَ اللهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ۔(مسلم رقم الحدیث 591باب استحباب الذکر بعد الصلوۃ ج1ص414)(سنن النسائی رقم الحدیث 1337باب الاستغفار بعد التسلیم ج3ص68)ترجمہ:۔ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہونے کے بعد تین بار استغفار کرتے تھے اور فرماتے۔ اللهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ۔وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ نُمَيْرٍ «يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ۔(مسلم، رقم الحدیث 592، جلد1، صفحہ 414) ابن نمیر کی روایت میں يا ذا الجلال والإكرام (یا کے اضافے کے ساتھ) ہے۔عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ: أَيُّ الدُّعَاءِ أَسْمَعُ؟ قَالَ جَوْفَ اللَّيْلِ الآخِرِ، وَدُبُرَ الصَّلَوَاتِ المَكْتُوبَاتِ۔(ترمذی رقم الحدیث 3499ج5ص526)(ھذا حدیث حسن )ترجمہ:۔ حضرت ابو امامۃ فرماتے ہیں کہ بارگاہ رسول اللہ ﷺ میں عرض کیا گیا کہ کون سی دعا زیادہ سنی جاتی ہے فرمایا پچھلی رات کے وقت اور فرض نمازوں کے بعد ۔دعا کے لئے ہاتھ اٹھانا اور چہرے پر پھیر لینا سنت ہےعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا دَعَا فَرَفَعَ يَدَيْهِ، مَسَحَ وَجْهَهُ بِيَدَيْهِ۔(ابوداؤدرقم الحدیث 1492باب الدعاء ج 2ص79)ترجمہ:۔ بے شک نبی کریم ﷺجب دعا فرماتے اپنے مبارک ہاتھوں کو اٹھا کر دعا کرتے پھر دونوں ہاتھوں کو چہرہ انور پر پھیرتے ۔تین بار دعا کرناتین مرتبہ دعا کرنا مستحب ہے۔عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ، رَفَعَ صَوْتَهُ، ثُمَّ دَعَا عَلَيْهِمْ، وَكَانَ إِذَا دَعَا دَعَا ثَلَاثًا۔ (مسلم رقم الحدیث 1794باب ما لقی النبیﷺ من اذی المشرکین والمنافقین ج3ص1418)ترجمہ:۔جب نبی پاک ﷺ ۔۔۔۔۔آپ جب بھی دعا کرتے تین مرتبہ دعا کرتے تھے اور جب بھی آپ سوال کرتے تین بار سوال کرتے تھے۔عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعْجِبُهُ أَنْ يَدْعُوَ ثَلَاثًا، وَيَسْتَغْفِرَ ثَلَاثًا۔۔ (ابوداودرقم الحدیث 1524باب فی الاستغفار ج 2ص86 )ترجمہ:۔ بے شک رسول اللہﷺ کوپسند تھا تین مرتبہ دعا کرنا اور تین مرتبہ استغفار کرنا۔عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلاَةً أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ۔( بخاری، رقم الحدیث 845، جلد1، صفحہ168)روایت ہے حضرت سمرہ بن جندب سے فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ جب نماز پڑ ھ لیتے تو ہم پر اپنے چہرہ سے متوجہ ہوتے۔عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ۔ )مسلم، رقم الحدیث 708، جلد1، صفحہ 492(روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ دائیں جانب پھرتے تھے۔یعنی اکثر اوقات سلام پھیر کر دعا کے لیے داہنی جانب رخ فرماتے تھے۔اس لیئے فقہاء فرماتے ہیں کہ امام دعا کے وقت ہر طرف پھر سکتا ہے مگر داہنی طرف پھرنا بہتر کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو داہنی جانب محبوب تھی۔(مراۃ المناجیح، جلد2، صفحہ103 )عَنِ الأَسْوَدِ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لاَ يَجْعَلْ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ شَيْئًا مِنْ صَلاَتِهِ يَرَى أَنَّ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ لاَ يَنْصَرِفَ إِلَّا عَنْ يَمِينِهِ لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثِيرًا يَنْصَرِفُ عَنْ يَسَارِهِ۔(بخاری، رقم الحدیث 852، جلد1، صفحہ 170)روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ تم میں سے کوئی اپنی نماز سے شیطان کا حصہ نہ بنائے یہ سمجھے کہ اس پر واجب ہے کہ ہمیشہ دائیں جانب ہی پھرا کرے میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت دفعہ بائیں جانب پھرتے دیکھا۔اسی کے تحت مراۃ المناجیح میں ہے۔ یعنی یہ اعتقاد رکھنا کہ نماز کے بعد امام پر داہنی جانب پھرکر بیٹھنا واجب ہے اور بائیں طرف پھرنا جائز ہی نہیں غلط عقیدہ ہے،ایسا سمجھنے والا اپنی عبادتوں میں شیطان کا حصہ رکھ ر ہا ہے کیونکہ غلط عقیدہ رکھ کر نماز پڑھنا نماز کے نقصان کا باعث ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ غیر ضروری چیز کو فرض سمجھنا یونہی مباح کو حرام جاننا فساد عقیدہ ہے۔(مراۃ المناجیح، جلد2، صفحہ 103)فتاوی رضویہ میں ہے۔ نماز کے بعد دُعا مانگنا سنّت ہے اور ہاتھ اُٹھا کر دُعا مانگنا اور بعد دُعا منہ پر ہاتھ پھیر لینا یہ بھی سنّت سے ثابت ہے۔(فتاوی رضویہ، جلد6، صفحہ 202)مزید برآں تحریر فرماتے ہیں۔ بعد سلام قبلہ رُو بیٹھا رہنا ہر نماز میں مکروہ ہے وہ شمال و جنوب و مشرق میں مختار ہے مگر جب کوئی مسبوق اس کے محاذات میں اگر چہ اخیر صف میں نماز پڑھ رہا ہو تو مشرق یعنی جانبِ مقتدیان منہ نہ کرے ،بہرحال پھر نامطلوب ہے اگر نہ پھرا اور قبلہ رُو بیٹھا رہا تومبتلائے کراہت و تارک سنّت ہوگا۔(فتاوی رضویہ، جلد6، صفحہ 205، 206)اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے تحقیق فرمایا۔ جہت قبلہ ہر جگہ افضل ہے مگر امام کے لئے کہ بعد سلام اسے قبلہ رو رہنا مکروہ ہے دہنے یا بائیں پھر جائے یا مقتدیوں کی طرف منہ کرلے اگر سامنے کوئی نماز نہ پڑھتا ہو۔(تاوی رضویہ، جلد6، صفحہ 190)بہار شریعت میں ہے۔سلام کے بعد سُنّت یہ ہے کہ امام دہنے بائیں کو انحراف کرے اور داہنی طرف افضل ہے اور مقتدیوں کی طرف بھی مونھ کر کے بیٹھ سکتا ہے، جب کہ کوئی مقتدی اس کے سامنے نماز میں نہ ہو ۔(بہار شریعت، جلد1، صفحہ 537)ھذا ماعندنا واللہ اعلم بالصوابشیر محمد خان مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف محمد شعیب رکن دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریفتاریخ: 2024۔11۔06