عام تلاش:

وراثت

فلٹرز

اولاد نہ ہو تو بیوی کو وراثت مین کتنا حصہ ملے گا
Nov 02, 2026 11

اولاد نہ ہو تو بیوی کو وراثت مین کتنا حصہ ملے گا

الجواب بعون الملک الوھاببسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیاشریعت اسلامیہ کا یہ حکم ہے کہ جب کوئی شخص فوت ہوجائے تو تجہیز وتکفین کے بعد سب سے پہلے مابقی مال میں سےاس کا قرض ادا کیا جائے بعد ازاں جو مال بچ جائے اس کے ثلث میں سے اس کی و صیت پر عمل کیا جائے اور اس کے بعد بقیہ ترکہ حسب احکام قرآنی وارثوں میں تقسیم کیا جائے۔اولاد نہ ہونے کی صورت میں بیوی کو چوتھا حصہ ملے گا اس میں سے جو کچھ اس کے شوہر کی ملک میں تھا۔دلائل ملاحظہ ہوں۔قرآن مجید میں ہے۔وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ۔ (پارہ4 سورہ النساء آیت12)ترجمہ ضیاء القرآن:۔ اور تمھاری بیویوں کا چوتھا حصہ ہے اس سے جو تم چھوڑو بشرطیکہ نہ ہو تمھاری اولاد۔تفسیر ضیاء القرآن میں ہے۔خاوند کی کوئی اولاد نہ ہو، نہ لڑکا، نہ لڑکی نہ موجودہ بیوی سے نہ کسی دوسری بیوی سے تو چوتھائی بیوی کو ملے گا خواہ ایک ہو  یا زیادہ۔ (ضیاء القرآن ج1 ص325) مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:یہ بیوی کی میراث کا ذکر ہے ، بیوی ایک ہو یا زیادہ ، خلوت ہوچکی  یا نہ اور خاوند کی اولاد نہ اس بیوی سے ہو ، نہ دوسری بیوی سے ، بہر حال اس کی میراث یہ ہے کہ اس کے خاوند کے متروکہ مال کا چہارم یعنی 1/4 ملے گا ، باقی تین حصے دوسرے وارثوں کے ہوں گے۔(تفسیرِ نعیمی، جلد4،صفحہ 516، نعیمی کتب خانہ، گجرات)فتاوی عالمگیری میں ہے۔وَأَمَّا الرُّبُعُ فَفَرْضُ صِنْفَيْنِ فَرْضُ الزَّوْجِ إذَا كَانَ لِلْمَيِّتِ وَلَدٌ أَوْ وَلَدُ ابْنٍ وَفَرْضُ الزَّوْجَةِ أَوْ الزَّوْجَاتِ إذَا لَمْ يَكُنْ لِلْمَيِّتِ وَلَدٌ وَلَا وَلَدُ ابْنٍ ۔(فتاوی عالمگیری، جلد6، صفحہ 450)در مختار میں ہے۔لِلزَّوْجَاتِ حَالَتَانِ الرُّبْعُ بِلَا وَلَدٍ وَالثُّمُنُ مَعَ الْوَلَدِ۔(در مختار، جلد6، صفحہ 770)بہار شریعت میں ہے۔ اگر میّت کی بیوی کے ساتھ میت کا بیٹا بیٹی یا پوتا پوتی نہ ہو تو اس کو کُل مال کا چوتھائی 4/1ملے گا۔(بہار شریعت، جلد3، صفحہ 1120)شرعی صورت حال بیان کر دی گئی ہے قانونی صورت حال کے بارے قانون دانوں سے رابطہ کر لیا جائے۔ھذا ماعندنا واللہ اعلم بالصوابشیر محمد خان مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف                                                                                محمد شعیب رکن دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریفتاریخ:2025۔10۔25

دادا کی وراثت سے یتیم ہوتے کو حصہ ملے گا؟
Sep 02, 2026 32

دادا کی وراثت سے یتیم ہوتے کو حصہ ملے گا؟

الجواب بعون الملک الوھاببسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیابیٹوں کے زندہ ہوتے ہوئے  دادا کی وراثت میں سے پوتے کو شرعاً حصہ نہیں ملے گا۔ دلائل ملاحظہ فرمائیں۔ بخاری شریف میں ہے۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلْحِقُوا الفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ۔ بخاری، رقم الحدیث 6735، جلد8، صفحہ 151حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے( پہلے) ذوالفروض کو حصہ دو پھر جو بچ جائے وہ قریبی( عصبہ) کے لئے ہے۔السنن الکبری للبیہقی  میں  کن کن کو کب کب حصہ ملے گا اس ترتیب کو بیان کرتے ہوئے تحریر فرمایا۔ ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى , أنا جَرِيرٌ , عَنِ الْمُغِيرَةِ , عَنْ أَصْحَابِهِ , فِي قَوْلِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وَإِذَا تَرَكَ ابْنًا وَابْنَ ابْنٍ فَلَيْسَ لِابْنِ الِابْنِ شَيْءٌ۔)السنن الکبری للبیہقی،  رقم الحدیث 12372، جلد6، صفحہ 391۔  اسی طرح معرفۃ السنن و الآثار میں ہے(زید بن ثابت ، حضرت علی بن ابی طالب اور ابن مسعود رضی اللہ عنہم نے فرمایا۔ اور جب میت نے بیٹا  اور پوتا چھوڑا تو پوتے کے لئے کوئی چیز نہیں۔امام بخاری علیہ الرحمہ نے بخاری شریف میں تحریر فرمایا۔ وَقَالَ زَيْدٌ وَلاَ يَرِثُ وَلَدُ الِابْنِ مَعَ الِابْنِ۔) بخاری، جلد8، صفحہ 151(حضرت زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا بیٹے کے ہوتے ہوئے پوتا وارث نہیں بنتا۔فتاوی عالمگیری میں ہے۔ فَالْأَقْرَبُ يَحْجُبُ الْأَبْعَدَ كَالِابْنِ يَحْجُبُ أَوْلَادَ الِابْنِ وَالْأَخِ لِأَبَوَيْنِ يَحْجُبُ الْإِخْوَةَ لِأَبٍ وَمَنْ يُدْلِي بِشَخْصٍ لَا يَرِثُ مَعَهُ إلَّا أَوْلَادَ الْأُمِّ۔) فتاوی عالمگیری، جلد6، صفحہ 452(بہار شریعت میں ہے۔ قریبی رشتہ دار دور والے رشتہ دار کو محروم کر دیتاہے۔  پوتا خواہ اس بیٹے سے ہو یا دوسرے بیٹے سے ہو محروم رہے گا کیونکہ بیٹا بہ نسبت پوتے کے زیادہ قریب ہے۔)بہار شریعت، جلد3، صفحہ 1135(فتاوی فیض رسول میں ہے۔ بیٹے کی موجودگی میں پوتے محروم ہوتے ہیں۔فتاوی  فیض رسول، جلد2، 739اخلاقی ضابطہ حیات:۔ وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوهُمْ مِنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَعْرُوفًا۔پارہ4، سورہ النساء، آیت8ترجمہ ضیاء القرآن:۔ اور جب حاضر ہو (ورثہ کی) تقسیم کے وقت (غیر وارث) رشتہ دار، یتیم بچے اور مسکین  تو دو انھیں بھی اس سے اور کہو ان سے اچھی بات۔اسی  آیت کے تحت نور العرفان میں ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ اگر چچا کی وجہ سے داد کی میراث سے پوتا محروم ہوگیا تو دادا کو چاہیے کہ اسے وصیت کر کے مال کا مستحق بنا جاوے اور اگر دادا نے ایسا نہ کیا تو وارثوں کو چاہیے کہ اپنے حصہ میں سے اسے کچھ دے دیں، اس میں مسلمانوں نے بہت سستی کی ہے مگر خیال رہے کہ نابالغ اور غیر موجودات وارث کے حصہ میں سے نہ دیا جائے گا ۔)نور العرفان، پارہ 4، سورہ النساء، زیر آیت 8(صراط الجنان میں ہے: ”اس آیت میں غیر وارثوں کو وراثت کے مال میں سے کچھ دینے کا جوحکم دیا گیا ہے، یہ دینا مستحب ہے۔ اس مستحب حکم پر یوں بھی عمل ہوسکتا ہے کہ بعض اوقات کوئی بیٹا یتیم بچے چھوڑ کر فوت ہوجاتا ہے اور اس کے بعد باپ کا انتقال ہوتا ہے تو وہ یتیم بچے چونکہ پوتے بنتے ہیں اور چچا یعنی فوت ہونے والے کا دوسرا بیٹا موجود ہونے کی وجہ سے یہ پوتے دادا کی میراث سے محروم ہوتے ہیں تو دادا کو چاہیے کہ ایسے پوتوں کو وصیت کر کے مال کا مستحق بنا دے اور اگر دادا نے ایسا نہ کیا ہو تو وارثوں کو چاہیے کہ اوپر والے حکم پر عمل کرتے ہوئے اپنے حصہ میں سے اسے کچھ دے دیں۔ اس حکم پر عمل کرنے میں مسلمانوں میں بہت سستی پائی جاتی ہے بلکہ اس حکم کا علم ہی نہیں ہوتا۔ البتہ یہ یاد رہے کہ نابالغ اور غیر موجود وارث کے حصہ میں سے دینے کی اجازت نہیں۔ “ (تفسیر صراط الجنان، جلد2، صفحہ 150، مکتبۃ المدینہ)شرعی صورت حال بیان کر دی گئی ہے قانونی صورت حال کے بارے قانون دانوں سے رابطہ کر لیا جائے۔ھذا ماعندنا واللہ اعلم بالصواب                                                        شیر محمد خان مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف                                                                               محمد شعیب رکن دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریفتاریخ:۔ 2023۔01۔23