جھوٹ بولنے والا امامت کا اہل ہے یا نہیں؟
الجواب بعون الملک الوھاب بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیا مذکورہ مسؤلہ صورت کے مطابق جس امام میں مذکورہ بالا خامیاں ہوں وہ منصب امام کے اہل نہیں ہے اسے اس عظیم منصب سے الگ ہو جانا چاہیے اور استعفی دے کیونکہ سرکار دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے۔ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ ثَلَاثَةٌ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُمْ صَلَاةً، مَنْ تَقَدَّمَ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ۔ (ابوداود، رقم الحدیث 593، جلد1، صفحہ 162۔بالفاظ متقاربہ )ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راویت ہے ، کہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم نے ''تین شخصوں کی نماز اللہ تعالی قبول نہیں فرماتا جو لوگوں کی امامت کروائے اور لوگ اس کو پسند نہ کرتے ہوں۔ھذا ماعندنا واللہ اعلم بالصواب شیر محمد خان مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف محمد شعیب رکن دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریفتاریخ: 2020۔01۔06