حیض کی حالت میں زیر ناف بال صاف کرنا کیسا؟
الجواب بعون الملک الوھاب بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیاانسان کے جسم سے جدا ہونے والی اعضا یا بال پاکیزگی کی حالت میں جدا ہوں تاکہ ان اعضاء سے بھی ناپاکی دور ہو کیونکہ جنابت حالت میں انسان کے جسم سے ناخن اور بال کو جدا کرنا مکروہ ہے اسی طرح حیض و نفاس کی حالت میں غسل کرنے سے پہلے بالوں اور ناخن کا جدا کرنا مکروہ ہے۔فتاوی عالمگیری میں ہے۔حَلْقُ الشَّعْرِ حَالَةَ الْجَنَابَةِ مَكْرُوهٌ وَكَذَا قَصُّ الْأَظَافِيرِ كَذَا فِي الْغَرَائِبِ۔(فتاوی عالمگیری، جلد5، صفحہ 358)حاشیۃ الطحطاوی میں ہے۔ في حالة الجناية وكذا إزالة الشعر لما روى خالد مرفوعا من تنور قبل أن يغتسل جاءته كل شعرة فتقول يا رب سله لم ضيعني ولم يغسلني كذا في شرح شرعة الإسلام عن مجمع الفتاوى وغيره۔(حاشیۃ الطحطاوی، جلد1، صفحہ 525)بہار شریعت میں ہے۔ جنابت کی حالت میں نہ بال مونڈائے اور نہ ناخن ترشوائے کہ یہ مکروہ ہے۔(بہار شریعت، جلد3، صفحہ 585) حیض اور نِفاس سے پاک ہو گئی اور ابھی تک غسل نہیں کیا، تو اس حال میں عورت کے لئے غیر ضروری بال صاف کرنا مکروہ ہے کیونکہ یہ حیض و نفاس کا خون رک جانے کے بعد ابھی وہ ناپاک ہے کیونکہ اس پر ابھی بھی غسل فرض ہے، اب اس حالت میں وہ جُنبی کی طرح ہے جیسے جنبی کے لئے حالتِ جنابت میں بال صاف کرنا یا ناخن کاٹنا مکروہ ہے اسی طرح حیض و نفاس والی عورت کا حکم ہے۔ھذا ماعندنا واللہ اعلم بالصواب شیر محمد خان مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف محمد شعیب رکن دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریفتاریخ :2023۔ 11۔06