مسجد کے پرانے سامان کا حکم؟ مسجد کا پرانا سامان فروخت کرنا کیسا؟
الجواب بعون الملک الوھاببسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیامسجد کی ایسی چیزیں جو مسجد کے کام نہ آسکیں وہ چیزیں حاکم اسلام یا قاضی شرع کی اجازت، یہ نہ ہوں تو متولی اور اہل محلہ مل کر فروخت کر سکتے ہیں۔ مگر خریدار کو چاہئے کہ بے ادبی کی جگہ نہ لگائے۔ جیسا کہ درج ذیل کتب فقہ اور فتاوی میں موجود ہے۔محیط البرہانی اور فتاوی عالمگیری میں ہے۔والالفاظ من عالمکیری حَشِيشُ الْمَسْجِدِ إذَا كَانَتْ لَهُ قِيمَةٌ فَلِأَهْلِ الْمَسْجِدِ أَنْ يَبِيعُوهُ وَإِنْ رَفَعُوا إلَى الْحَاكِمِ فَهُوَ أَحَبُّ ثُمَّ يَبِيعُوهُ بِأَمْرِهِ هُوَ الْمُخْتَارُ، كَذَا فِي جَوَاهِرِ الْأَخْلَاطِيِّ۔ (فتاوی عالمگیری ج2 ص459)البحر الرائق میں ہے۔وَإِذَا رَأَى حَشِيشَ الْمَسْجِدِ فَرَفَعَهُ إنْسَانٌ جَازَ إنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ قِيمَةٌ فَإِنْ كَانَ لَهُ أَدْنَى قِيمَةٍ لَا يَأْخُذُهُ إلَّا بَعْدَ الشِّرَاءِ مِنْ الْمُتَوَلِّي أَوْ الْقَاضِي أَوْ أَهْلِ الْمَسْجِدِ أَوْ الْإِمَامِ۔ (البحر الرائق ج5ص271)مراقی الفلاح، البحر الرائق، عالمگیری، در مختار میں ہے۔والالفاظ میں الدر المختار وَلَا تُرْمَى بُرَايَةُ الْقَلَمِ الْمُسْتَعْمَلِ لِاحْتِرَامِهِ كَحَشِيشِ الْمَسْجِدِ وَكُنَاسَتِهِ لَا يُلْقَى فِي مَوْضِعٍ يُخِلُّ بِالتَّعْظِيمِ۔ (الدر المختار ج1 ص178)نہ پھنکا جائے مستعمل قلم کا تراشا اس کی حرمت اور تعظیم کی وجہ سے۔ جیسے مسجد کی گھاس اور کوڑہ نہ ڈالا جائے ایسے مقام میں کہ مخل ہو اس کی تعظیم کا۔فتاوی رضویہ میں ہے۔حاکم اسلام اور جہاں وہ نہ ہوتو متولی مسجد واہل محلہ کو جائز ہے کہ وہ چھپر کہ اب حاجت مسجد سے فارغ ہے کسی مسلمان کےہاتھ مناسب داموں بیچ ڈالیں اورخریدنے والا مسلمان اسے اپنے مکان نشست یا باورچی خانے یا ایسے ہی کسی مکان پر جہاں بے تعظیمی نہ ہو ڈال سکتا ہے، پاخانہ وغیرہ مواضع بیحرمتی پر نہ ڈالنا چاہئے کہ علمانے اس کوڑے کی بھی تعظیم کا حکم دیاہے جو مسجدسے جھاڑ کر پھینکا جاتا ہے۔ (فتاوی رضویہ ج16 ص258)فتاوی امجدیہ میں ہے۔جو چیزیں مسجد کے کام نہ آسکیں بیکار ہو جائیں انھیں بیچ کر قیمت مسجد میں صرف کی جائے مگر خریدار کو چاہئے کہ وہ چیزیں بے ادبی کی جگہ نہ لگائے۔(فتاوی امجدیہ ج3ص23)مجموعہ فتاوی بریلی میں ہے۔حاکم اسلام یا قاضی شرع کی اجازت سے یہ نہ ہوں تو متولی اور اہل محلہ مل کر اینٹیں، شہتیر، چھپر(الویسٹر) اور دیگر فاضل اشیاء جو اب مسجد کی ضرورت نہ رہیں کسی مسلمان کے ہاتھوں فروخت کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سے حاصل شدہ رقم اسی مسجد میں سرف کریں، مذکورہ اشیاء خریدنے والے مسلمان کو چاہئے کہ اسے اپنے مکان میں کسی ایسی جگہ لگائے جہاں ان کی بے حرمتی نہ ہو کہ علمائے اسلام نے اس کوڑے کی بھی تعظیم کا حکم دیا جو مسجد سے جھاڑ کر پھینکا جاتا ہے۔(مجموعہ فتاوی بریلی ص247)ھذا ماعندنا واللہ اعلم بالصوابشیر محمد خان مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریفضیاء المصطفی نائب مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف محمد شعیب رکن دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریفتاریخ:2018۔10۔28