اعلامیہ بھیرہ شریف
اعلامیہعقائد اسلامبر موقع عرس پاک حضرت ضیاءالامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمتہ اللہ تعالی علیہ18,19 محرم الحرام 1442ھ ۔8,9 ستمبر 2020حسب ِارشاد : مجاھد تحریک ختم نبوت جانشین حضور ضیاء الامت حضرت الحافظ پیر محمد امین الحسنات شاہ صاحبسجادہ نشین آستانہ عالیہ امیر السالکین بھیرہ شریف عصرِ حاضر میں عقائد اسلام کے بیان میں بعض عناصر کی جانب سے غیر محتاط روش اپناتے ہوئے بہت نامناسب گفتگو کی جا رہی ہے . اور امت مسلمہ کے عقائد سے انحراف کیا جارہا ہے ، جسکے سبب نئے نئے فتنے جنم لے رہے ہیں. ان فتنوں کے سدّ باب کیلئے اہلسنت و جماعت کے بزرگانِ دین کے متوازن اور پختہ عقائد پر مشتمل بیانیہ مفادِ عام کیلئے اعلامیہ کی صورت میں جاری کیا جارہا ہے. مرکزی دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف کے تمام شاہین علمائے کرام، آستانہ عالیہ کے خلفاء عظام ،معتقدین، متوسلین ، جملہ طلباء و طالبات، فاضلین اور فاضلات اور جملہ اہلِ اسلام اس بیانیے پر دل و جان سے کاربند رہیں ۔اور ہر قسم کے افراط و تفریط سے بچے رہیں۔ درج ذیل عقائد قرآن و سنت سے ثابت ہیں اور قرونِ اولی سے لیکر عہدِ حاضر تک جمیع سلاسل طریقت کے اولیاء و صلحاء کے عقائد بھی یہی رہے ہیں۔1 : ہم اللہ تعالی کو وحدہ لاشریک مانتے ہیں۔اور اسکی ذات و صفات میں کسی کو اسکا ہمسر(برابر) نہیں ٹھہراتے۔2 : اللہ کریم کو تمام عیوب سے منزہ و مبرا اور تمام عظمتوں کا مالک سمجھتے ہیں۔3 : اسلام دین ِحق ہے اور ہم تمام کتبِ سماویہ پر ایمان رکھتے ہیں۔ اور قرآن مجید کو سب سے اعلی اور تحریف سے پاک سمجھتے ہیں اور تحریف (تبدیلی)کے قائل کو دائرہ اسلام سےخارج مانتے ہیں اور جملہ مذاہب و ادیان کے ان حقوق کا لحاظ کرتے ہیں جو اسلام نے ان کو عطا فرمائے ہیں۔4 : حیات بعد الموت، برزخی زندگی ، ثواب و عذابِ قبر ، حشر و نشر اور جنت و دوزخ کو حق سمجھتے ہیں۔5/1: ہمارا دعویٰ بلکہ ہمارا غیر متزلزل عقیدہ اور ایمان یہ ہے کہ : ” حضور سرور عالم سیدنا محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب سے آخری نبی ہیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آسکتا۔ اور جو شخص اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور جو بدبخت اس کے اس دعویٰ کو سچا تسلیم کرتا ہے وہ دائرہ اسلام سے خارج اور مرتد ہے اور اسی سزا کا مستحق ہے جو اسلام نے مرتد کے لئے مقرر فرمائی ہے “۔ [1]5/2:۔ "مسلم"سےکوئی ایسا شخص مراد ہےجووحدت وتوحیدقادرمطلق اللہ تبارک وتعالیٰ،خاتم النبین حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ختم نبوت پر مکمل اور غیر مشروط طور پر ایمان رکھتاہواورپیغمبریامذہبی مصلح کےطورپرکسی ایسےشخص پرنہ ایمان رکھتاہونہ اسےمانتاہوجس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس لفظ کے کسی مفہوم میں یا کسی بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعوی کیا ہویا جو دعویٰ کرے۔[2]6- آپﷺکو تمام سابقہ انبیاء و رسل علیہم السلام سے افضل و اعلٰی سمجھتے ہیں اور تمام انبیاء و رسل علیہم السلام پر ایمان رکھتے ہیں۔ اور کسی بھی نبی کی توہین کرنے والے کو از روئے قرآن و سنت دائرہ اسلام سے خارج اور سنگین ترین سزا کا مستحق سمجھتے ہیں ۔ تمام ملائکہ پر ایمان لاتے ہیں اور ان کی تعظیم کرتے ہیں انبیاء و ملائکہ کو معصوم عن الخطاء (گناہ) سمجھتے ہیں ان کے علاوہ مخلوق میں امکان خطاء موجود ہے البتہ اللہ کریم اپنے مقبول بندوں کو گناہوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ [3]6/1:۔ اللہ تعالی کی عطا سے حضور سید عالمﷺ کے لئے علم غیب ، صلوۃ و سلام بصیغہ ندا ،استغاثہ، حیات برزخی، حاضرو ناظر ہونا اور ایصال ثواب ثابت مانتے ہیں۔7 : ہم حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کےجمیع اصحاب، اہلِ بیتِ اطہاربشمول ازواج مطھرات (امھات المؤمنین)، آپﷺ کی چاروں صاحبزادیوں اور تینوں صاحبزادگان رضوان اللہ علیھم ، کو واجب الاحترام سمجھتے ہیں۔8. نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے بعد خلیفہ برحق و امامِ مطلق حضرت سیّدنا ابو بکر صدیق، پھر حضرت عمرِ فاروق، پھر حضرت عثمان غنی، پھر حضرت مولیٰ علی پھر چھ مہینے کے لیے حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنھم ہوئے، اِن حضرات کو خلفائے راشدین اور اِن کی خلافت کو خلافتِ راشدہ کہتے ہیں ، کہ انھوں نے حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی سچی نیابت کا پورا حق ادا فرمایا۔[4] اور خلفاء کی خلافت بر ترتیب افضلیت ہے۔ فقہ اکبرمیں امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔وَأفضل النَّاس بعد النَّبِيين عَلَيْهِم الصَّلَاة وَالسَّلَام أَبُو بكر الصّديق ثمَّ عمر بن الْخطاب الْفَارُوق ثمَّ عُثْمَان بن عَفَّان ذُو النورين ثمَّ عَليّ بن أبي طَالب المرتضى رضوَان الله عَلَيْهِم أَجْمَعِينَ عابدين ثابتين على الْحق وَمَعَ الْحق نتولاهم جَمِيعًا وَلَا نذْكر أحدا من أَصْحَاب رَسُول الله إِلَّا بِخَير۔[5]انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد لوگوں میں سب سے افضل حضرت ابو بکر صدیق ان کے بعد حضرت عمر فاروق ان کے بعد حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین اور ان کے بعد حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین (یہ سب ) عبادت گزار ہیں ہمیشہ حق پر ثا بت رہنے والے اور حق کے ساتھ تھے اور ہم ان تمام صحابہ سے محبت کرتے ہیں اور ہم کسی صحابی کا ذکر سوائے خیر (بھلائی) کے نہیں کرتے ۔ مولا علی رضی اللہ عنہ کو ہر مومن کا مولی یعنی محبوب دوست و مددگار مانتے ہیں ۔[6]9 : اہل بیتِ اطہار بشمول امھات المومنین اور جمیع صحابہ و صحابیات میں سے کسی کی بھی عزت و عظمت کے خلاف صراحتاً یا اشارۃً لعن طعن کرنے کو عقائد اہلسنت کے خلاف اور قابلِ مؤاخذہ سمجھتے ہیں۔10- کسی صحابی کی قبل از اسلام زندگی کو بنیاد بنا کر ان پر زبان طعن دراز کرنے کو ناجائز سمجھتے ہیں اور جن کے ایمان کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرما لیا ان کو صحابی ہونے کی بنیاد پر قابلِ احترام مانتے ہیں۔ .جو بد نصیب ازواج مطہرات، آل پاک اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی جناب میں گستاخیاں کرتا ہے اور ان کے دلوں کو دکھاتا ہے اس کا انجام خطرناک ہوگا۔[7]11 : مشاجراتِ واختلافات صحابہ میں لعن طعن سے کفِ لسان یعنی زبان کو روکے رکھنا لازم و ضروری سمجھتے ہیں ،اور اس پر منفی انداز میں بحث و تمحیص کو اسلام کے اجتماعی مزاج کے خلاف سمجھتے ہیں اور جن مسائل میں بزرگانِ دین نےتوقف فرمایا ہے وہاں سکوت ہی ضروری سمجھتے ہیں۔بہر حال ہم میں سے کسی کو زیب نہیں دیتا کہ سرکاردوعالم ﷺ کے صحابہ کی اس بابرکت جماعت کے بارےمیں زبان طعن دارز کرے کیونکہ قرآن کریم کی بہت سی ایسی آیات ہیں جن میں اس پاک باز جماعت کی شان بیان کی گئی ہے۔[8]12:۔ ہم جمیع منکرین سنت سے بیزاری و براءت کا اظہار کرتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث اور سنت کو قرآنِ کریم کے بعد دوسرا مصدرِ تشریع اور اجماع و قیاس کو بطور حجت و سند تسلیم کرتے ہیں . اور حضورﷺ کے ہر فرمان کو سر آنکھوں پر رکھتے ہوئے دل و جان سے تسلیم کرتے ہیں.13- تصوف اسلام کا اہم ترین جزء ہے اور حدیثِ جبریل علیہ السلام کی رو سے احسان و تزکیہ نفس کی اہمیت ایمان و اسلام کے بعد مسلم ہے . لہذا ہم جمیع سلاسلِ حقہ کے صوفیاء کرام کا احترام کرتے ہوئے انکی تعلیمات کو حرزِ جان بناتے ہیں اور تصوف کو دین کے متوازی (الگ مذہب) کہنے والوں کی فکر کو مبنی بر خطا قرار دیتے ہیں.14 - ہم حکومت پاکستان سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ قیامِ امن کی خاطر اسلامی مقدسات اور عقائد کے احترام کو یقینی بنائے ،اور ان کی توہین کرنے والے کو قرار واقعی سزا دینے کا اہتمام کرے ۔نوٹمفسر قرآن حضرت ضیاء الامت پیر محمد کرم شاہ صاحب الازہری رحمۃ اللہ علیہ نے دارالعلومحمدیہ غوثیہ کے مقاصد تاسیس میں درج ذیل عبارت کندہ کروائی جو کہ تاحال موجود ہے۔"یہ دارالعلوم فقہی اعتبار سے مسلک حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا مقلد ہوگا ،جملہ سلاسل ِتصوف کا تہہ دل سے معتقد ہوگا ،نظریاتی اعتبار سے ملت کے سوادِاعظم اہل السنت و الجماعت کا ہم نوا ہوگا، جس کی ترجمانی اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خاں رحمۃ اللہ علیہ نے کی ہے " . ہم یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ موجودہ دور میں تمام مذہبی حلقے باہمی نزاعات و اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قومی و بین الاقوامی سطح پر اہل اسلام کو در پیش مسائل الحاد ،استشراق ،جدت پسندی، عقلیت پرستی اور مرزائیت جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں تاکہ صحیح معنوں میں خدمتِ اسلام ہو سکے ۔ عقائد ِ اسلام سے متعلقہ اس اہم بیانیہ کو آستانہ عالیہ سیال شریف سے جاری کردہ اعلامیہ سے استفادہ و پیروی کرتے ہوئے متوسلینِ خانقاہ امیر السالکین (بھیرہ شریف)اور جمیع اہل اسلام کے لیے جاری کیا جا رہا ہے ۔ جملہ متعلقین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اس اعلامیہ پر سختی سے کار بند رہیں اور مساجد و مدارس میں اسے آویزاں فرما دیں۔اللہ کریم ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔یہی عقائد درج ذیل اجلہ علماء و مشائخ سے ثابت ہیں۱۔ حضرات خلفائے راشدین رضوان اللہ علیھم اجمعین۲۔ آئمہ اہل بیت اطہار، اجلہ تابعین، تبع تابعین رضی اللہ عنہم و علماء راسخین۳۔ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ۴۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ۵۔ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ۶۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ۷۔ سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ۸۔ حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ۹۔ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ۱۰۔ شیخ محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ۱۱۔ امام عبدالوہاب شعرانی رحمۃ اللہ علیہ۱۲۔ شیخ فریدالدین عطار رحمۃ اللہ علیہ۱۳۔ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ۱۴۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ۱۵۔ حضرت الشاہ احمد رضا خان محدث بریلی رحمۃ اللہ علیہ۱۶۔ حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ۱۷۔ حضرت شاہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ۱۸۔ خواجہ خواجگان بہار چشت خواجہ سلیمان تونسوی رحمۃ اللہ علیہ۱۹۔ قدوة السالکین حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی رحمۃ اللہ علیہ۲۰۔ اور شیخ الاسلام والمسلمین حضرت خواجہ قمرالدین سیالوی رحمۃ اللہ علیہ21۔ حضرت ضیاء الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازھری رحمۃ اللہ علیہ ۔ان عقائد کو مفصل سمجھنے کے لئے درج ذیل کتب کا مطالعہ نہایت مفید رہے گا۔الفقہ الاکبر، العقیدۃ الطحاویہ، کتاب الابانہ شرح العقائد النسفیۃ ، الیواقیت الجواہر، نظام العقائد از فخر جہاں فخر الدین دہلوی ، مہر منیر، فتاوی رضویہ، بہار شریعت ، تکمیل الایمان، مرام الکلام ، کشف المحجوب، مکتوبات شریف، فتاوی عزیزیہ،غذاء المحبین، مراۃ العاشقین، انوار قمریہ ، تفسیر ضیاء القرآن ،سیرت ضیاء النبی ﷺ،اور مقالا تِ ضیا ء الامت رحمۃ اللہ علہیم اجمعین۔پوری امت کی طرح مشائخ چشت اہل بہشت کا بھی یہی عقیدہ ہے ۔[9]منجانب :۔ سجادہ نشین آستانہ عالیہ امیر السالکین بھیرہ شریف۔ از دارالافتاء بھیرہ شریف[1] ۔ ( ماخوذاز ضیاء القرآن ج 4 ص68)۔[2] ۔(ماخوذ ازاآئین پاکستان آرٹیکل260،شق3اے،ص327) ۔[3] ۔شرح العقائد النسفیہ، النبراس، منح الروض، فتاوی رضویہ، بہار شریعت، کتاب العقائد۔[4] ۔(بہار شریعت، جلد1، صفحہ 241، شرع عقائد نسفی مع النبراس) بہرحال حضرت امام حسن کی چند ماہ خلافت پر تیس سال پورے ہوگئے،چونکہ امام حسن کی خلافت دراصل خلافت حیدری کا تتمہ تھی اس لیے اس کا ذکر علیحدہ نہ فرمایا ۔(مراۃ المناجیح، جلد7، صفحہ 241)۔اس لئے عام طور پر خلفاء اربعہ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ جب خلفائے راشدین کا تذکرہ ہوتا ہے تو حضرت سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کی خلافت کا ذکر کم ہی کیا جاتا ہے۔اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے امام زُرقانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:جن حضرات نے آپ کی خلافت کو شُمار(Count) نہیں کیا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی مدت طویل نہیں تھی،گویا کہ آپ رضی اللہ عنہ کی خلافت اپنے والدِ ماجد کی خلافت میں ہی شامل ہے ،یہ دونوں مقدس ہستیاں ایک شخصیت کی طرح ہیں اور چوتھے خلیفۂ راشد کے تذکرے میں آپ کا ذکر بھی ہوجاتا ہے۔(شرح الزرقانی علی المواھب،جلد 10، صفحہ156)۔[5] ۔(فقہ اکبر از امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، صفحہ 41) ۔[6] ۔وَدَفَعَهَا عُلَمَاءُ أَهْلِ السُّنَّةِ بِأَنَّ الْمَوْلَى بِمَعْنَى الْمَحْبُوبِ وَهُوَ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ سَيِّدُنَا وَحَبِيبُنَا، وَلَهُ مَعَانٍ أُخَرُ تَقَدَّمَتْ، وَمِنْهُ النَّاصِرُ وَأَمْثَالُهُ۔ (مرقاۃ، جلد9صفحہ 3944)اسی طرح النہایہ میں ہے۔[7] ۔ (ماخوذ از ضیاء القرآن ج4 ص94)۔[8] ۔ (ضیاءالنبی ج5 ص780)[۔[9] ۔اعلامیہ عقائد اسلام ضیاء حرم کا شمارہ اپریل مئی 2025 میں بھی شائع ہو چکا ہے۔