سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اندر ایں مسئلہ ایک شخص داڑھی کٹواتا ہے اور بالکل معمولی سی نہ ہونے کے برابر رکھواتا ہے، کیا اس شخص (حافظ قرآن) کے پیچھے فرضی نماز یا نماز تراویح پڑھنا جائز ہے ؟ بینوا تؤجروا۔
جواب
الجواب بعون الملک الوھاب
بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیا
ایسا شخص جو داڑھی منڈواتا یا مشت بھر سے کم داڑھی رکھواتا ہے اس کے پیچھے نماز فرض و تراویح پڑھنا مکروہ تحریمی ہےکیونکہ داڑھی مشت بھر رکھوانا سنت مؤکدہ بلکہ قریب الوجوب ہے۔ آپﷺ نے فرمایا۔ جُزُّوا الشَّوَارِبَ، وَأَرْخُوا اللِّحَى خَالِفُوا الْمَجُوسَ۔ (مسلم رقم الحدیث 260 باب خصال الفطرۃ ج1ص222، ھکذا الجامع الصحیح للسنن والمسانید)
مونچھیں پست کرو اور داڑھیاں بڑھاؤ اور مجوس کی مخالفت کرو۔
مجوس داڑھیاں کٹواتے یا منڈواتے تھے۔فتح الباری میں ہے۔نُقِلَ عَنِ الْمَجُوسِ أَنَّهُمْ كَانُوا يَقُصُّونَهَا۔ (فتح الباری ج10ص349)
عمدۃ القاری میں ہے۔خالفوا الْمَجُوس لأَنهم كَانُوا يقصرون لحاهم۔ (عمدۃ القاری ج22ص46)
کسی صحابی سے مشت بھر سے کم داڑھی کٹوانا ثابت نہیں۔ سرکار دو عالمﷺ نے اپنے قول أَعْفُوا اللِّحَى کہ داڑھیاں بڑھاؤ کی وضاحت اپنے فعل سے فرمائی کہ آپﷺ کی داڑھی مبارک سینہ اقدس پر چھائی ہوئی تھی نیز حضرت علی رضی اللہ عنہ کی داڑھی بھی سینہ پر چھائی ہوئی تھی۔ شرح صحیح بخاری لابن بطال اور عمدۃ القاری میں ہے۔وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَة يقبض على لحيته فَيَأْخُذ مَا فضل، وَعَن ابْن عمر مثله۔
(عمدۃ القاری ج22 ص46)
حضرت ابو ہریرہ اور حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنھما نے اپنی داڑھیاں مشت میں پکڑ کر زائد حصہ کو کاٹ دیا گویا مشت بھر سے زائد کاٹنا صحابہ سے ثابت ہے۔ اس سے کم نہیں۔ کسی صحابی رسولﷺ سے مشت بھر سے کم کٹوانا ثابت نہیں۔ پتہ چلا صحابہ کرام کے نزدیک أَعْفُوا اللِّحَى کا مطلب یہ تھا کہ مشت بھر سے کم نہ ہو لہذا مٹھی بھر سے کم کو جائز کہنے والے یہ بات مد نظر رکھیں کہ صحابہ کرام سے تو یہ بات ثابت نہیں۔ اکثر بزرگان دین کا عمل بھی یہی رہا کہ وہ مشت بھر سے کم نہیں کیا کرتے تھے۔
سرکار دوعالمﷺ نے فرمایا عَشْرَةٌ مِنَ السُّنَّةِ کہ دس چیزیں فطرت سے ہیں ان میں سے ایک داڑھی بڑھانے کو ذکر فرمایا نیز آقائے دو عالمﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث 42 باب اتباع الخلفاء الراشدین ج1ص15)
ترجمہ:۔ کہ تم پر میری اور میرے خلفائے راشدین کی سنت لازم۔
أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ بِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ۔ (مشکوۃ رقم الحدیث6018 الفصل الثالث ج3ص3882)
ترجمہ:۔ میرے صحابہ چمکتے ستاروں کی مثل ہیں جس کی پیروی کرو گے ہدایت پا جاؤ گے۔
گویا ہدایت یافتہ وہ ہے جو سرکاردوعالمﷺ اور صحابہ کی سنت پر عمل کرے۔ اور جو سرکار دوعالمﷺ کی سنت مؤکدہ کا تارک ہے اور اس پر مصر ہے وہ فاسق ہے اور جو فاسق ہے قابل اہانت ہوتا ہے نہ کہ قابل امامت۔ اور امام بنانا قابل تعظیم کام ہے۔ لہذا فاسق کو یہ کام نہیں سونپا جا سکتا۔
فتاوی شامی میں ہے۔
وَأَمَّا الْفَاسِقُ فَقَدْ عَلَّلُوا كَرَاهَةَ تَقْدِيمِهِ بِأَنَّهُ لَا يُهْتَمُّ لِأَمْرِ دِينِهِ، وَبِأَنَّ فِي تَقْدِيمِهِ لِلْإِمَامَةِ تَعْظِيمَهُ، وَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِمْ إهَانَتُهُ شَرْعًا، وَلَا يَخْفَى أَنَّهُ إذَا كَانَ أَعْلَمَ مِنْ غَيْرِهِ لَا تَزُولُ الْعِلَّةُ، فَإِنَّهُ لَا يُؤْمَنُ أَنْ يُصَلِّيَ بِهِمْ بِغَيْرِ طَهَارَةٍ۔
(فتاوی شامی ج1ص560)
جو حضرات امام کو ہٹانے کی طاقت رکھتے ہیں اور ہٹاتے نہیں ان کی نماز واجب الاعادہ ہے اور وہ اپنی نمازیں دوبارہ پڑھیں۔ اور جو ہٹانے کی طاقت نہیں رکھتے ان کی نماز واجب الاعادہ نہیں ان کی نماز مکروہ تنزیہی ہے جن کا اعادہ مستحب[1]۔ وہ لوگ جو ایسے فاسق غیر مؤول امام کو ہٹانے کی طاقت نہیں رکھتے اور انہیں کوئی دوسرا امام بھی میسر نہیں خواہ اس مسجد میں یا کسی دوسری مسجد میں تو ان کا اس امام کے پیچھے نماز پڑھ لینا جائز ہے بلکہ اسی فاسق کے پیچھے نماز پڑھ لینا تنہا نماز پڑھنے سے افضل ہے اور دوسرا امام میسر ہو خواہ دوسری مسجد میں جانا پڑے تو دوسری مسجد میں چلا جائے یہی مستحب ہے۔ أنَّ الْفَاسِقَ إذَا تَعَذَّرَ مَنْعُهُ يُصَلِّي الْجُمُعَةَ خَلْفَهُ، وَفِي غَيْرِهَا يَنْتَقِلُ إلَى مَسْجِدٍ آخَرَ۔۔۔۔۔۔ فَإِنْ أَمْكَنَ الصَّلَاةُ خَلْفَ غَيْرِهِمْ فَهُوَ أَفْضَلُ وَإِلَّا فَالِاقْتِدَاءُ أَوْلَى مِنْ الِانْفِرَادِ۔ (البحر الرائق ج1ص370)
یعنی اگر متقی امام نہ ملے تو اکیلے نماز پڑھنے کی بجائے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا ہی افضل ہے۔ اللہ کریم ہدایت عطا فرمائے اور سرکار دوعالمﷺ کی سنن مقدسہ پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ حبیبہ الکریمﷺ۔
اس بارے فتوی رضویہ اور فتاوی نوریہ کا مطالعہ بہت مفید رہے گا۔
ھذا ماعندی واللہ اعلم بالصواب
شیر محمد خان
مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف
تاریخ:2016۔11۔24
[1] ۔فتاوی نوریہ، جلد1، صفحہ 335 میں تفصیل موجود ہے۔