عام تلاش:

اولاد نہ ہو تو بیوی کو وراثت مین کتنا حصہ ملے گا

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اندر ایں مسئلہ کہ   شوہر کی اولاد نہ ہو تو بیوی کو وراثت میں کتنا حصہ ملے گا؟ بینوا تؤجروا۔

Nov 02, 2026 9 views
شیئر کریں:

جواب

الجواب بعون الملک الوھاب

بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیا

شریعت اسلامیہ کا یہ حکم ہے کہ جب کوئی شخص فوت ہوجائے تو تجہیز وتکفین کے بعد سب سے پہلے مابقی مال میں سےاس کا قرض ادا کیا جائے بعد ازاں جو مال بچ جائے اس کے ثلث میں سے اس کی و صیت پر عمل کیا جائے اور اس کے بعد بقیہ ترکہ حسب احکام قرآنی وارثوں میں تقسیم کیا جائے۔اولاد نہ ہونے کی صورت میں بیوی کو چوتھا حصہ ملے گا اس میں سے جو کچھ اس کے شوہر کی ملک میں تھا۔

دلائل ملاحظہ ہوں۔

قرآن مجید میں ہے۔وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ۔ (پارہ4 سورہ النساء آیت12)

ترجمہ ضیاء القرآن:۔ اور تمھاری بیویوں کا چوتھا حصہ ہے اس سے جو تم چھوڑو بشرطیکہ نہ ہو تمھاری اولاد۔

تفسیر ضیاء القرآن میں ہے۔

خاوند کی کوئی اولاد نہ ہو، نہ لڑکا، نہ لڑکی نہ موجودہ بیوی سے نہ کسی دوسری بیوی سے تو چوتھائی بیوی کو ملے گا خواہ ایک ہو  یا زیادہ۔ (ضیاء القرآن ج1 ص325)

 مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

یہ بیوی کی میراث کا ذکر ہے ، بیوی ایک ہو یا زیادہ ، خلوت ہوچکی  یا نہ اور خاوند کی اولاد نہ اس بیوی سے ہو ، نہ دوسری بیوی سے ، بہر حال اس کی میراث یہ ہے کہ اس کے خاوند کے متروکہ مال کا چہارم یعنی 1/4 ملے گا ، باقی تین حصے دوسرے وارثوں کے ہوں گے۔(تفسیرِ نعیمی، جلد4،صفحہ 516، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

فتاوی عالمگیری میں ہے۔

وَأَمَّا الرُّبُعُ فَفَرْضُ صِنْفَيْنِ فَرْضُ الزَّوْجِ إذَا كَانَ لِلْمَيِّتِ وَلَدٌ أَوْ وَلَدُ ابْنٍ وَفَرْضُ الزَّوْجَةِ أَوْ الزَّوْجَاتِ إذَا لَمْ يَكُنْ لِلْمَيِّتِ وَلَدٌ وَلَا وَلَدُ ابْنٍ ۔(فتاوی عالمگیری، جلد6، صفحہ 450)

در مختار میں ہے۔لِلزَّوْجَاتِ حَالَتَانِ الرُّبْعُ بِلَا وَلَدٍ وَالثُّمُنُ مَعَ الْوَلَدِ۔(در مختار، جلد6، صفحہ 770)

بہار شریعت میں ہے۔ اگر میّت کی بیوی کے ساتھ میت کا بیٹا بیٹی یا پوتا پوتی نہ ہو تو اس کو کُل مال کا چوتھائی 4/1ملے گا۔(بہار شریعت، جلد3، صفحہ 1120)

شرعی صورت حال بیان کر دی گئی ہے قانونی صورت حال کے بارے قانون دانوں سے رابطہ کر لیا جائے۔

ھذا ماعندنا واللہ اعلم بالصواب

شیر محمد خان مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف

                                                                                محمد شعیب رکن دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف

تاریخ:2025۔10۔25

شیئر کریں:
ماخذ: آف لائن تحریری ریکارڈ