سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اندر ایں مسئلہ کہ مرداور عورت کا غیر ضروری بال صاف کرنے کے لئے استرا،یا مشین استعمال کرنا کیسا ہے نیز بال صفاپاوڈر، ہیر ریمور کریم وغیرہ استعمال کرنا کیسا، زیر ناف بال کہاں تک صاف کرنے چاہئیں؟شرعا رہنمائی فرمائیں۔ بینوا تؤجروا۔
جواب
الجواب بعون الملک الوھاب
بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیا
مرد اورعورت کے لئے زیر ناف بالوں کا صاف کرناسنت ہے۔اور ہرتال، چونا، صابن، ہیر ریمور کریم ، ریزریا مشین وغیرہ سے صاف کرنا جائز ہے۔ کیونکہ مقصود اس جگہ کی نظافت، پاکیزگی و صفائی ہے۔ عورت کے لئے بال اکھیڑ لینا بہتر ہے لیکن اگر عورت کوزیر ناف اور بغل کے بال اکھاڑنے میں تکلیف ہو تو اس کے لئے بلیڈ یااسترا یاایسی مشین جو صفائی کر دے استعمال کرنا جائز ہے۔ہفتہ میں ایک بار موئے زیر ناف دور کرنا مستحب ہے، پندرہ دن تک موئے زیر ناف دور کرنا بھی جائز اور چالیس دن سےزیادہ گزار دینا مکروہ و ممنوع ہے۔اکثر علماء کے نزدیک مرد اور عورت کی شرمگاہ اور اس کے اردگرد (حدود اربعہ) میں جو بال اگے ہیں انہیں مونڈ دیاجائے۔ بعض لوگ رانوں اور گھٹنوں تک مونڈ دیتے ہیں یہ ضروری نہیں۔
بخاری، مسلم،ابوداود،سنن ابن ماجہ، سنن النسائی، سنن الکبری للبیہقی،صحیح ابن حبان کی حدیث پاک میں ہے۔والالفاظ من البخاری عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الفِطْرَةُ خَمْسٌ الخِتَانُ، وَالِاسْتِحْدَادُ، وَنَتْفُ الإِبْطِ، وَقَصُّ الشَّارِبِ، وَتَقْلِيمُ الأَظْفَارِ۔
(بخاری رقم الحدیث6297 بَابُ الخِتَانِ بَعْدَ الكِبَرِ وَنَتْفِ الإِبْطِ ج8ص66)
ترجمہ:۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پانچ چیزیں سنت ہیں ختنہ کرنا زیر ناف بال صاف کرنا ناخن کاٹنا بغل کے بال نوچنا اور مو نچھیں ترشوانا۔
مسلم،ابن ماجہ، سنن الکبری للبیہقی، مسند ابی یعلی، شعب الایمان کی حدیث پاک میں ہے۔ والالفاظ من مسلم عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ أَنَسٌ وُقِّتَ لَنَا فِي قَصِّ الشَّارِبِ، وَتَقْلِيمِ الْأَظْفَارِ، وَنَتْفِ الْإِبِطِ، وَحَلْقِ الْعَانَةِ، أَنْ لَا نَتْرُكَ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً۔
(مسلم رقم الحدیث258 بَابُ خِصَالِ الْفِطْرَةِ ج1ص222)
ترجمہ:۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے لیے مونچھیں ترشوانے، ناخن کاٹنے، بغل کے بال نوچنے، زیر ناف بال صاف کرنے کی یہ مدت مقرر فرمائی ہے کہ چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑے رکھیں۔
اور حاشیہ الطحطاوی میں ہے۔
والسنة في حلق العانة أن يكون بالموسى لأنه يقوي وأصل السنة يتأدى بكل مزيل لحصول المقصود وهو النظافة وإنما جاء الحديث بلفظ الحلق لأنه الأغلب وسواء في ذلك الرجل والمرأة وقالالنووي الأولى في حقه الحلق وفي حقها النتف والإبط أولى فيه النتف لورود الخبر۔ (حاشیہ الطحطاوی علی المراقی ص527)
ترجمہ:۔ زیر ناف بال مونڈنے میں سنت یہ ہے کہ زیر ناف بال استرے کے ساتھ مونڈے جائیں کیوں کہ یہ جگہ کو سخت بناتا ہے اور کسی ایسی چیز کا استعمال جو بالوں کو زائل کر دے اس سے سنت ادا ہوجائے گی کیونکہ مقصد جو کہ صفائی ہے پورا ہوگیا اور حدیث میں آیا ہے کہ بالوں کو مونڈا جائے اور اس میں مرد اور عورت کا حکم برابر ہے اور امام نووی فرماتے ہیں کہ مرد کے حق میں بہتر یہ ہے کہ بالوں کو مونڈ دیاجائے۔اور عورت کے حق میں بہتر یہ ہے کہ بالوں کو اکھیڑ دیں اور بغلوں کے بارے میں میں بالوں کو اکھیڑ دینا زیادہ بہتر ہے کہ حدیث میں اسی طرح آیا ہے۔
البحر الرائق میں ہے۔
(قَوْلُهُ: وَفِي النِّهَايَةِ وَأَمَّا الْعَانَةُ إلَخْ) اُخْتُلِفَ فِي الْعَانَةِ الَّتِي يُسَنُّ حَلْقُهَا فَالْمَشْهُورُ الَّذِي عَلَيْهِ الْجُمْهُورُ أَنَّهُ مَا حَوْلَ ذَكَرِ الرَّجُلِ، وَفَرْجِ الْمَرْأَةِ مِنْ الشَّعْرِ، وَقِيلَ يُسَنُّ حَلْقُ جَمِيعِ مَا عَلَى الْقُبُلِ وَالدُّبُرِ وَحَوْلَهُمَاوَيَحْصُلُ أَصْلُ السُّنَّةِ بِأَيِّ وَجْهٍ كَانَ مِنْ الْحَلْقِ وَالْقَصِّ وَالنَّتْفِ وَاسْتِعْمَالِ النُّورَةِ إذْ الْمَقْصُودُ حُصُولُ النَّظَافَةِ إلَّا أَنَّ الْأَحْسَنَ فِي هَذِهِ السُّنَّةِ الْحَلْقُ بِالْمُوسَى؛ لِأَنَّهُ أَنْظَفُ كَذَا فِي حَاشِيَةِ نُوحٍ أَفَنْدِي۔(البحر لرائق ج3ص11)
ترجمہ:۔ جمہور علماء کے نزدیک مرد اور عورت کی شرمگاہ اور اس کے اردگرد (حدوداربعہ) میں جو بال اگے ہیں انہیں مونڈ دیں۔اورموئے زیر ناف کو مونڈنے، کاٹنے، اکھیڑنے یا چونا یا کریم وغیرہ استعمال کرنے سے سنت ادا ہوجائے گی کیونکہ صفائی کا مقصد پورا ہوگیا البتہ بہتر یہ ہے کہ استرےکے ساتھ بال مونڈ دئیے جائیں کیونکہ اس سے زیادہ صفائی ہو جائے گی اسی طرح حاشیہ نوح آفندی میں ہے۔
مرقاۃ المفاتیح، در مختار،ردالمحتار،درر الحکام اور فتاوی عالمگیری میں ہے۔
والالفاظ من الھندیہ الْأَفْضَلُ أَنْ يُقَلِّمَ أَظْفَارَهُ وَيُحْفِيَ شَارِبَهُ وَيَحْلِقَ عَانَتَهُ وَيُنَظِّفَ بَدَنَهُ بِالِاغْتِسَالِ فِي كُلِّ أُسْبُوعٍ مَرَّةً فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ فَفِي كُلِّ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا وَلَا يُعْذَرُ فِي تَرْكِهِ وَرَاءَ الْأَرْبَعِينَ فَالْأُسْبُوعُ هُوَ الْأَفْضَلُ وَالْخَمْسَةَ عَشَرَ الْأَوْسَطُ وَالْأَرْبَعُونَ الْأَبْعَدُ وَلَا عُذْرَ فِيمَا وَرَاءَ الْأَرْبَعِينَ وَيَسْتَحِقُّ الْوَعِيدَ كَذَا فِي الْقُنْيَةِ۔(فتاوی عالمگیری ج5ص357)
فتاوی رضویہ میں ہے۔
چالیس روز سے زیادہ ناخن یا موئے بغل یا موئے زیر ناف رکھنے کی اجازت نہیں، بعد چالس روز کے گنہگار ہوں گے، ایک آدھ بارمیں گناہ صغیرہ ہوگا عادت ڈالنے سے کبیرہ ہوجائیگا فسق ہوگا۔ (فتاوی رضویہ ج22ص678)
اعلی حضرت علیہ الرحمہ سے ایک سوال اس طرح ہواکہ۔ مرد اگر اپنے زیر ناف کے بال مقراض سے تراشے یا عورت استرہ لے تو جائز ہے یانہیں؟
جواب:۔ حلق وقصر ونتف وتنور یعنی مونڈنا، کترنا، اکھیڑنا، نورہ لگانا سب صورتیں جائز ہیں کہ مقصود اس موضع کا پاک کرنا ہے اور وہ سب طریقوں میں حاصل ۔(فتاوی رضویہ ج22ص600)
بہار شریعت میں ہے۔
موئے زیر ناف دور کرنا سنت ہے۔ ہر ہفتہ میں نہانا، بدن کو صاف ستھرا رکھنا اور موئے زیر ناف دور کرنا مستحب ہے اور بہتر جمعہ کا دن ہے اور پندرھویں روز کرنا بھی جائز ہے اور چالیس روز سے زائد گزار دینا مکروہ و ممنوع۔ موئے زیر ناف استرے سے مونڈنا چاہیے اور اس کو ناف کے نیچے سے شروع کرنا چاہیے اور اگر مونڈنے کی جگہ ہرتال چونا یا اس زمانہ میں بال اڑانے کا صابون چلا ہے، اس سے دور کرے یہ بھی جائز ہے، عورت کو یہ بال اکھیڑ ڈالنا سنت ہے۔(بہار شریعت ج3ص587)
بوڑھے اور ضعیف آدمیوں کے لئے یہ سب چیزیں استعمال کی جا سکتی ہیں۔ البتہ ان کی شرمگاہ ڈھانپے رکھنے کا انتظام کیا جائے خواہ اولاد ہی کیوں نہ ہو۔
ھذا ماعندنا واللہ اعلم بالصواب
شیر محمد خان مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف
ضیاء المصطفی نائب مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف
محمد شعیب رکن دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف
تاریخ: 2017۔07۔21