عام تلاش:

بیوع | خریدوفروخت

فلٹرز

ذیلی ابواب
مونگ پھلی کو کھیت میں بیچنا کیسا؟
Sep 28, 2026 828

مونگ پھلی کو کھیت میں بیچنا کیسا؟

الجواب بعون الملک الوھاببسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیااسلام نے بیع میں  غرر  )دھوکا( یعنی  ایسی خریدو فروخت جس میں کسی فریق کو دھوکا  ہو جائے اس کی اجازت نہ دی ہے    لہذا  جب  خریدوفروخت کا معاملہ ہو تو شریعت مطہرہ نے کسی ایسی صورت کو جائز نہیں رکھا جس میں کسی فریق کو دھو کا یا نقصان ہوتا ہو۔  اس لیے شریعت نے  معدوم چیز کی بیع کو جائز نہیں رکھا  بلکہ  یہ بیع باطل ہے۔ حدیث پاک میں ہے۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الغَرَرِ۔(ترمذی، رقم الحدیث 1230، جلد3، صفحہ 524۔ اسی طرح مسلم، سنن ابی داود، سنن ابن ماجہ، سنن نسائی، مسند احمد  وغیرہ میں ہے)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں رسول اللہﷺ نے دھوکہ کی بیع سے منع  فرمایا۔  اور  کوئی چیز موجود  تو ہو لیکن  مشتری ( خریدار )نے اسے دیکھا نہ ہو یا زمین کے اندر پوشیدہ ہو جس کا مناسب نمونہ نہ دیکھا  تو بھی دیکھنے پر خریدار کو بیع  فسخ کرنے یعنی سودا توڑ دینے کا اختیار ہے اسے خیار رویت کہتے ہیں۔ اگر خریدی گئی چیز کا بعض حصہ اس قدر دیکھ لیا کہ جس سے پوری چیز کا اندازہ ہوجائے تو  بیع درست ہوجائے گی بشرطیکہ بقیہ نہ دیکھی گئی چیز اس کی مثل ہو جس   کا نمونہ  دیکھ لیا تھا ورنہ اگر بقیہ چیز دیکھے  گئے نمونہ کی مثل نہ ہو تو بھی بیع  ختم کرنے یعنی  سودا توڑ دینے  کا اختیار خریدار  کو ہوگا۔ لہذا زمین میں پوشیدہ فصل جیسا کہ لہسن پیاز آلو گاجر مولی مونگ پھلی  کی اتنی مقدار اکھیڑ کر بطور نمونہ دیکھ لی جس سے بقیہ فصل کا صحیح اندازہ ہو سکے تو بیع درست ہو جائے گی۔ اور اگر بقیہ فصل نمونہ کی مثل نہ ہوئی تو بیع ختم کرنے کا اختیار ہوگا۔   نیز سودا ہو جانے کے بعد فوراً فصل نکال لینا ضروری ہےمزید پکنے تک زمین میں رکھنا جائز نہیں سوائے اس حیلہ کے کہ بقیہ دنوں کے لئے زمین کو کرایہ پر لے لے۔لہذا مونگ پھلی کی زیر زمین بیع کی دو صورتیں ہیں ۔ ایک یہ کہ اوپر سے کھیت دیکھ کر بیع کر دینا کہ نیچے ابھی مونگ پھلی اگی ہی نہ ہو  یا اس کا اگنا معلوم نہ ہو تو   یہ صورت ناجائز ہے۔دوسری   یہ کہ نیچے مونگ پھلی  اگ آئی ہو ااورمناسب  دانے  دیکھ کر یا  گن کر حساب لگانے کے بعد بیع کی جائے تو   جائز   تو ہے۔جب کہ بقیہ اس کی  مثل حاصل ہو اور فوراً نکال لی گئی ہو مزید پکنے کے لئے زمین میں نہ رکھی گئی ہو سوائے حیلہ اجارہ زمین کے یعنی اگر وہ فصل مزید کچھ دن زمین میں پکنے تک باقی رکھنا ہو تو زمین  کو اتنے دن کے لئے کرایہ (ٹھیکہ) پر لے لیا جائے بشرطیکہ مالک زمین اس پر راضی ہو۔دلائل ملاحظہ ہوں۔بہار شریعت میں ہے۔جو چیزیں زمین کے اندر ہوں جیسے لہسن، پیاز، گاجر، آلو، جو چیزیں تول کر بیچی جاتی ہیں ان میں کھود کر تھوڑے سے دیکھنا کافی ہے جبکہ باقی اس سے کم درجہ کے نہ ہوں ۔ (بہار شریعت، جلد2، صفحہ 669)مزید تحریر فرمایا کہ ۔ جوچیز زمین کے اندر پیدا ہوتی ہے، جیسے مولی، گاجر وغیرہ اگر اب تک پیدا نہ ہوئی ہویا پیدا ہونا معلوم نہ ہواس کی بیع باطل ہے اور اگر معلوم ہوکہ موجود ہوچکی ہے تو بیع صحیح ہے اورمشتری کو خیار رویت حاصل ہوگا۔ (بہار شریعت، جلد2، صفحہ 697)عین الھدایہ میں ہے۔ اگر ایسی چیز خریدی جو زمین میں غائب ہوتی ہے جیسے پیاز و لہسن و گاجر مولی وغیرہ پھر اس نے بعض کو دیکھا تو خیار ساقط نہ ہو گا جب تک کہ کل کو نہ دیکھے یہ امام صاحب کا قول ہے ۔اور صاحبین نے کہا کہ اگر اس میں سے تھوڑی دیکھ لے جس سے باقی کا حال دریافت ہوتا ہے تو راضی ہونے پر خیار ساقط ہوا۔ السراج۔  اگر مشتری نے بائع  کی اجازت سے یا بائع نے اسقدر اکھاڑی جو پیمانہ یا وزن میں آتی ہے اور مشتری دیکھ کر راضی ہوا توکل کی بیع لازم ہوگئی جبکہ باقی ایسی ہی ہو۔  اور اگر مشتری نے بغیر اجازت بائع کے اکھاڑی پس اگر اس قدر ہو کہ اس کا کچھ ثمن ہے تو کل کی بیع اس پر لازم ہوگی خواہ راضی ہو یا نہ ہو ۔ القاضی خان ۔ اگرچہ  کسی جانب کھیت میں کچھ نہ نکلے ۔ المحیط ۔ یہی مختار ہے ۔ (الفتح ) اور اگر اسنے صرف اس قدر اکھاڑی جس کے کچھ دام نہیں  ہیں تو اسکا خیار باطل نہ ہو گا۔  یہ سب ابویوسف کا قول ہے اور اسی پر فتوی ہے ۔ القاضی خان ۔ (عین الھدایہ، جلد3، صفحہ 61)فتاوی رضویہ میں ہے۔ کھڑا کھیت خرید کر ناجائزہے یانہیں ؟الجواب:کھیت اگر تیار ہوگیا اور ابھی کاٹ لیا جائے گا تو جائز ہے اور اگر ابھی نہ پکا اور پکنے تک کھیتی قائم رکھی جائے گی، تو خرید وفروخت ناجائز ہے بشرط مافیہ نفع عاقد بلا قضیۃ العقد (اس چیز کی شرط لگانے کی وجہ سے جس میں  کسی عاقد کا نفع ہے اور عقد اس کا تقاضا نہیں  کرتا۔ ت) اوراس کے جواز کا حیلہ یہ ہے کہ مثلا کھیتی دو مہینہ میں  پکتی سمجھے تو کھیتی فی الحال خرید لے اوراس کے باقی رکھنے کی شرط نہ کرے اور اسی وقت معا وہ زمین جس مین کھیتی ہے اپنے کسی کام کے لئے دومہینہ تک کو ایک معینہ کرایہ پر لے لے خریداری میں  اس اجرت کاحساب دل میں  سمجھ لے مثلا بیس روپے قیمت کا کھیت ہے اور روپیہ مہینہ زمین کا کرایہ ہوگا اور دومہینہ کو کرایہ لینا ہوا تو اٹھارہ روپے کوکھیت خریدے اور دوروپے کو زمین کرایہ پرلے،درمختار میں  ہے : والحیلۃ فی الزرع والحشیش یشتری الموجود ببعض الثمن ویستاجرالارض مدۃ معلومۃ یعلم فیہا الادراک بباقی الثمن ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔   کھیتی اورگھاس کے باقی رکھنے کاحیلہ یہ ہے کہ جو موجود ہو اس کو بعض ثمن کے مقابل میں  خریدلے اورباقی ثمن کے عوض زمین کو ایک معینہ مدت کے لئے کرایہ پر لے لے جس میں  کھیتی کا پکنا معلوم ہو، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت) (۱؎ درمختار     کتاب البیوع فصل فی مایدخل فی البیع تبعا    مطبع مجتبائی  دہلی    ۲ /۹)۔ (فتاوی رضویہ، جلد17، صفحہ 174)الفقہ علی المذاہب الاربعہ میں ہے۔ ومن بيع المعدوم بيع ما ينبت في باطن الأرض إذا لم ينبت أصلاً، أو كان قد نبت ولكن لم يعلم وجوده وقت البيع كالجزر والفجل والبصل. أما إذا كان قد نبت وعلم وجوده وقت البيع فإن بيعه يصح ولا يكون معدوماً على أن للمشتري خيار الرؤية بعد قلعه ثم كان المبيع في الأرض مما يكال أو يوزن بعد القلع كالثوم والجزر والبصل فقلع المشتري شيئاً بإذن البائع أو قلع البائع شيئاً فرآه المشتري فلا يخلو: إما أن يكون المقلوع له قيمة بحيث يدخل تحت الوزن أو الكيل، وإما أن يكون شيئاً يسيراً.فالأول: إذا رآه المشتري ورضي به سقط خياره ولزمه البيع في الكل إذا وجد الباقي كذلك، لأن رؤية البعض تكون كرؤية الكل.والثاني: إذا رآه المشتري فإن رؤيته لا تكون كرؤية الكل لكونه يسيراً، أما إذا كان المقلوع مما يباع بعد القلع بالعدد كالفجل فإن رؤيته بعد القلع لا تسقط الخيار وإن كان لها قيمة، لأنه يتفاوت في الكبر والصغر فلا تساوي بين أفراده. فإذا قلع المشتري شيئاً بدون إذن البائع لزمه البيع وسقط خياره إلا أن يكون المقلوع يسيراً.وأما بيع ما ينبت بالتدريج فيظهر بعضه ويخفى بعضه كالورد والياسمين ففيه اختلاف: فقد أفتى بعضهم بجواز بيعه لتعامل الناس به استحساناً. وقال بعضهم كالمعدوم فلا يصح بيعه  ۔ (الفقہ علی المذاہب الاربعہ ، جلد2، صفحہ 214)درمختار میں ہے۔وَمِنْهُ بَيْعُ مَا أَصْلُهُ غَائِبٌ كَجَزَرٍ وَفُجْلٍ، أَوْ بَعْضُهُ مَعْدُومٌ كَوَرْدٍ وَيَاسَمِينٍ وَوَرَقِ فِرْصَادٍ. وَجَوَّزَهُ مَالِكٌ لِتَعَامُلِ النَّاسِ، وَبِهِ أَفْتَى بَعْضُ مَشَايِخِنَا عَمَلًا بِالِاسْتِحْسَانِ، هَذَا إذَا نَبَتَ وَلَمْ يُعْلَمْ وُجُودُهُ، فَإِذَا عُلِمَ جَازَ وَلَهُ خِيَارُ الرُّؤْيَةِ وَتَكْفِي رُؤْيَةُ الْبَعْضِ عِنْدَهُمَا وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى شَرْحُ مَجْمَعٍ۔( در مختار، جلد5، صفحہ 52)فتاوی شامی میں ہے۔ (قَوْلُهُ هَذَا إذَا نَبَتَ إلَخْ) الْإِشَارَةُ إلَى قَوْلِهِ مَا أَصْلُهُ غَائِبٌ وَكَانَ الْأَوْلَى أَنْ يَقُولَ هَذَا إذَا لَمْ يَنْبُتْ أَوْ نَبَتَ وَلَمْ يُعْلَمْ وُجُودُهُ فَإِنَّهُ لَا يَجُوزُ بَيْعُهُ فِيهِمَا كَمَا فِي ط عَنْ الْهِنْدِيَّةِ(قَوْلُهُ وَلَهُ خِيَارُ الرُّؤْيَةِ إلَخْ) قَالَ فِي الْهِنْدِيَّةِ إنْ كَانَ الْمَبِيعُ فِي الْأَرْضِ مِمَّا يُكَالُ أَوْ يُوزَنُ بَعْدَ الْقَلْعِ كَالثُّومِ وَالْجَزَرِ وَالْبَصَلِ فَقَلَعَ الْمُشْتَرِي شَيْئًا بِإِذْنِ الْبَائِعِ أَوْ قَلَعَ الْبَائِعُ، إنْ كَانَ الْمَقْلُوعُ مِمَّا يَدْخُلُ تَحْتَ الْكَيْلِ أَوْ الْوَزْنِ إذَا رَأَى الْمَقْلُوعَ وَرَضِيَ بِهِ لَزِمَ الْبَيْعُ فِي الْكُلِّ وَتَكُونُ رُؤْيَةُ الْبَعْضِ كَرُؤْيَةِ الْكُلِّ إذَا وَجَدَ الْبَاقِي كَذَلِكَ، وَإِنْ كَانَ الْمَقْلُوعُ شَيْئًا يَسِيرًا لَا يَدْخُلُ تَحْتَ الْوَزْنِ لَا يَبْطُلُ خِيَارُهُ. قَالَ فِي الْبَحْرِ: وَإِنْ كَانَ يُبَاعُ بَعْدَ الْقَلْعِ عَدَدًا كَالْفُجْلِ فَقَلَعَ الْبَائِعُ أَوْ قَلَعَ الْمُشْتَرِي بِإِذْنِ الْبَائِعِ لَا يَلْزَمُ الْكُلُّ؛ لِأَنَّهُ مِنْ الْعَدَدِيَّاتِ الْمُتَفَاوِتَةِ بِمَنْزِلَةِ الثِّيَابِ وَالْعَبِيدِ، وَإِنْ قَلَعَهُ بِلَا إذْنِ الْبَائِعِ لَزِمَهُ الْكُلُّ إلَّا أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ شَيْئًا يَسِيرًا، وَإِنْ أَبَى كُلَّ الْقَلْعِ تَبَرَّعَ مُتَبَرِّعٌ بِالْقَلْعِ أَوْ فَسَخَ الْقَاضِي الْعَقْدَ۔(فتاوی شامی، جلد5، صفحہ 52)العقود الدریہ فی الفتاوی الحامدیہ میں ہے۔ بَيْعُ مَا أَصْلُهُ غَائِبٌ وَعُلِمَ وُجُودُهُ يَجُوزُ وَلَهُ خِيَارُ الرُّؤْيَةِ إنْ شَاءَ رَدَّهُ وَإِنْ شَاءَ أَخَذَهُ وَتَكْفِي رُؤْيَةُ الْبَعْضِ عِنْدَهُمَا وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى كَمَا فِي شَرْحِ الْمَجْمَعِ وَالتَّنْوِيرِ وَمِثْلُهُ فِي الْبَحْرِ اهـ وَكَذَلِكَ أَفْتَى قَارِئُ الْهِدَايَةِ بِأَنَّهُ يَجُوزُ بَيْعُ مَا هُوَ مُغَيَّبٌ فِي الْأَرْضِ كَالْفُجْلِ وَالْبَصَلِ وَالْجَزَرِ وَالْقُلْقَاسِ وَإِذَا قَلَعَهُ الْبَائِعُ فَلِلْمُشْتَرِي الْخِيَارُ۔وَأَجَابَ أَيْضًا بِأَنَّهُ يَجُوزُ بَيْعُ قَصَبِ السُّكَّرِ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى أُصُولِهِ مُغَطًّى فِي قِشْرِهِ بَعْدَ بُدُوِّ صَلَاحِهِ وَلِلْمُشْتَرِي الْخِيَارُ إذَا رَآهُ بِإِزَالَةِ قِشْرِهِ إنْ شَاءَ أَخَذَ وَإِنْ شَاءَ رَدَّ فَإِنْ قَلَعَ شَيْئًا مِنْهُ مِنْ الْأَرْضِ بَطَلَ خِيَارُهُ ۔(العقود الدریہ فی تنقیح  الفتاوی الحامدیہ، جلد1، صفحہ 240)نَعَمْ وَالْبَيْعُ الْمَذْكُورُ صَحِيحٌ؛ لِأَنَّ بَيْعَ مَا أَصْلُهُ غَائِبٌ إذَا نَبَتَ وَعُلِمَ وُجُودُهُ صَحِيحٌ كَمَا فِي شَرْحِ الْمَجْمَعِ الْمَلَكِيِّ نَاقِلًا عَنْ الْخَانِيَّةِ وَالْمَسْأَلَةُ فِي شَرْحِ التَّنْوِيرِ لِلْعَلَائِيِّ مِنْ بَابِ الْبَيْعِ الْفَاسِدِ ۔(العقود الدریہ فی تنقیح  الفتاوی الحامدیہ،  جلد1، صفحہ 250)بدائع الصنائع میں ہے۔ وَعَلَى ذَلِكَ يَخْرُجُ مَا إذَا اشْتَرَى مُغَيَّبًا فِي الْأَرْضِ كَالْجَزَرِ وَالْبَصَلِ وَالثُّومِ وَالسَّلْقِ وَالْفُجْلِ وَنَحْوِهَا مِنْ الْمُغَيَّبَاتِ فِي الْأَرْضِ فَقَلَعَ بَعْضَهُ وَرَضِيَ بِالْمَقْلُوعِ أَنَّهُ لَا يَسْقُطُ خِيَارُهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ حَتَّى إنَّهُ إذَا قَلَعَ الْبَاقِي كَانَ عَلَى خِيَارِهِ إنْ شَاءَ رَدَّ وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَ الْكُلَّ، وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ، وَمُحَمَّدٌ: إذَا قَلَعَ شَيْئًا مِمَّا يُسْتَدَلُّ بِهِ عَلَى الْبَاقِي فِي عِظَمِهِ، وَرَضِيَ بِهِ الْمُشْتَرِي فَهُوَ لَازِمٌ (وَجْهُ) قَوْلِهِمَا أَنَّهُ إذَا قَلَعَ مَا يُسْتَدَلُّ بِهِ عَلَى الْبَاقِي كَانَ رُؤْيَةُ بَعْضِهِ كَرُؤْيَةِ كُلِّهِ فَكَأَنَّهُ قَلَعَ الْكُلَّ، وَرَضِيَ بِهِ كَمَا إذَا اشْتَرَى صُبْرَةً فَرَأَى ظَاهِرَهَا، يَسْقُطُ خِيَارُهُ كَذَا هَذَا.(وَجْهُ) قَوْلِ أَبِي حَنِيفَةَ أَنَّ هَذِهِ الْمُغَيَّبَاتِ مِمَّا تَخْتَلِفُ بِالصِّغَرِ وَالْكِبَرِ وَالْجَوْدَةِ وَالرَّدَاءَةِ اخْتِلَافًا فَاحِشًا فَرُؤْيَةُ الْبَعْضِ مِنْهَا لَا تُفِيدُ الْعِلْمَ بِحَالِ الْبَقِيَّةِ فَأَشْبَهَ الثِّيَابَ وَسَائِرَ الْعَدَدِيَّاتِ الْمُتَفَاوِتَة۔( بدائع الصنائع، جلد5، صفحہ 297)اسی مفہوم کے ساتھ فتح  القدیر، تبیین الحقائق، فتاوی عالمگیری، تحفۃ الفقہاء، محیط البرھانی میں  عبارات موجود ہیں۔ھذا ماعندنا واللہ اعلم بالصواب                                  شیر محمد خان مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف                ضیاء المصطفی نائب مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف                                                                                            محمد شعیب رکن دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریفتاریخ:2022۔10۔28

بیوع | خریدوفروخت
مکمل فتویٰ
بیمہ پالیسی کا شرعی حکم
Sep 02, 2026 394

بیمہ پالیسی کا شرعی حکم

الجواب بعون الملک الوھاببسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیابیمہ کا مروجہ کاروبار درج ذیل وجوہ کی بنا پر جائز نہیں۔1۔موجودہ کمپنیاں جمع شدہ سرمایہ کو کیونکہ سودی کاروبار میں لگاتی ہےاورسود کا کچھ حصہ لوگوں میں تقسیم کیا جاتا ہے اور یہ شرعا ناجائز ہے۔2۔ اگر بیمہ کرانے والا چند اقساط ادا کرنے کے بعد بقیہ قسطیں ادا نہ کرے تو اس کی ادا شدہ قسطیں ضبط کر لی جاتی ہیں۔ شریعت اس حق تلفی کو بھی جائز قرار نہیں دیتی۔3۔ بیمہ کرانے والے کو اگر قرض لینا ہو تو بیمہ کمپنی اس کو بھی سود پرقرض دیتی ہے۔4۔ زندگی کا بیمہ کرانے والا اپنے کسی وارث کے نام بیمہ کا رقم نامزد کر دیتا ہے اور وہ رقم مرنے کے بعد اس کے وارث کو ملتی ہے اور یہ نامزدگی وصیت ہے اور اسلام میں وارث کے لئے وصیت کرنا جائز نہیں۔5۔ مدت پوری ہونے سے پہلے اگر کوئی شخص طبعی موت مر جائے یا کسی حادثہ میں ہلاک ہوجائے تو اس کو پہلی صورت میں پوری مدت کی رقم اور دوسری صورت میں دگنی رقم دی جاتی ہے اب اس کو اس کی جمع شدہ اقساط سے زائد رقم جو دی جاتی ہے اس کو شرط لازم قرار دیا جاتا ہے اور یہ عقد صحیح نہیں۔                 (بحوالہ  شرح صحیح مسلم از علامہ غلام رسول سعیدی) نیزحضرت ضیاء الامت رحمۃ اللہ تعالی علیہ اسلامی نظریاتی کونسل کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔موجودہ بیمہ کمپنیاں جمع کئے ہوئے سرمائے کو کیونکہ سودی کاروبار میں لگاتی ہیں اور سود کا کچھ حصہ لوگوں میں تقسیم کیا جاتا ہے اور یہ شرعا جائز نہیں۔ نیز بیمہ کرانے والا چند اقساط ادا کرنے کے بعد بقیہ قسطیں ادا نہ کرے تو اس کی ادا شدہ قسطیں ضبط کر لی جاتی ہیں شریعت اس حق تلفی کو جائز قرار نہیں دیتی موجودہ بیمہ کمپنیاں اگر ان ممنوعات سے اجتناب  کریں تو پھر ان کے جواز میں کچھ شک نہیں۔                                               ( مقالات جلد 2 صفحہ 446)۔شرعی صورت حال بیان کر دی گئی  ہے قانونی صورت حال کے بارے قانون دانوں سے رابطہ کر لیا جائے۔ھذا ماعندنا واللہ اعلم بالصوابشیر محمد خانمفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف

بیمہ پالیسی | انشورنش
مکمل فتویٰ