عام تلاش:

جسم پر ٹیٹو(Tatto) بنوانا کیسا ہے؟

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اندر ایں مسئلہ کہ کہ جسم کو کرید کر اندر سرمہ یا کوئی اور چیز بھر کر نام لکھ دیا جاتا ہے۔ آیا ایسا کرنادرست ہے یا نہیں،  جسم پر  عارضی یا مستقل ٹیٹو(Tatto) بنوانا کیسا ہے؟ قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں ۔ بینوا تؤجروا۔

Sep 09, 2026 152 views
شیئر کریں:

جواب

الجواب بعون الملک الوھاب

                                     بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیا

مرد و عورت کے لئے جسم پر ٹیٹو  بنوانا چاہے عارضی ہو یا مستقل  معلون اور لعنت والا فعل  ہونے کے ساتھ ساتھ ناجائز اور حرام ہے،اگر جسم پر ٹیٹو کو بنوا لیا اور ختم کروانا مکمن نہ ہو تو توبہ و استغفار کرے۔

  جسم کو گود کر اندر سرمہ یا کوئی اور چیز بھر دینے والی عورت پر لعنت فرمائی گئی ہے۔ اور یہ حکم مرد اور عورت دونوں کے لئے یکساں (برابر ) ہے جیسا کہ حدیث پاک میں ہے۔

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَعَنَ اللَّهُ الوَاشِمَاتِ وَالمُوتَشِمَاتِ، وَالمُتَنَمِّصَاتِ وَالمُتَفَلِّجَاتِ، لِلْحُسْنِ المُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ۔(بخاری،  رقم الحدیث 4886، کتاب التفسیر باب و ما اتاکم الرسول فخذوہ ، جلد6، صفحہ1243، )  ۔

حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ انہوں نے فرمایا گودنے اور گودوانے والیوں پر اور بال نوچنے والیوں پر اور حسن کے لئے دانتوں میں جھری (کشادگی ) کرنے والیوں پر اللہ تعالی نے لعنت فرمائی ہے۔

             فتاوی شامی میں ہے۔

                          وَالْوَاشِمَةُ الَّتِي تَشِمُ فِي الْوَجْهِ وَالذِّرَاعِ، وَهُوَ أَنْ تَغْرِزَ الْجِلْدَ بِإِبْرَةٍ ثُمَّ يُحْشَى بِكُحْلٍ أَوْ نِيلٍ فَيَزْرَقُّ وَالْمُسْتَوْشِمَةُ: الَّتِي يُفْعَلُ بِهَا ذَلِكَ بِطَلَبِهَا۔ (فتاوی شامی،  جلد 6، صفحہ373)۔

علامہ غلام رسول سعیدی نعمۃ الباری میں یوں نقل کرتے ہیں۔

 علامہ بدر الدین محمد بن احمدعینی حنفی متوفی 855ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں۔

 الواشمات یہ الواشمہ کی جمع ہے اس کا معنی ہے جو عورت کسی دوسری عورت کی ہتھیلی پر یا پشت پر یا کلائی پر یا بدن کی کسی اور جگہ پر سوئی چھبو کر خون نکالنے، پھر اس خون کو پونچھ دے اور سوئی سے کئے ہوئے ان باریک سوراخوں میں سرمہ یا چونا بھر دے اور اس سے کوئی عبارت لکی جائے یا کوئی تصویر بنائی جائے تو ایسی عورت کو اردو میں گودنے والی عربی میں واشمہ کہتے ہیں اور جس عورت کے بدن کے کسی حصہ پر یہ عمل کیا جائے اس عورت کو عربی میں موشومہ کہتے ہیں، اگر کوئی عورت اس عمل کو طلب کرے تو اس عورت کو مستوشمہ کہتے ہیں، یہ عمل کرنا بھی حرام ہے اور کروانا بھی حرام ہے اگر کسی کم سن بچی نے اس عمل کو طلب کیا تو اس کا گناہ گودنے والی پر ہو گا بچی پر نہیں ہو گا کیونکہ وہ کم سن اور نابالغہ ہونے کی وجہ سے مکلفہ نہیں ہے ۔ (نعمۃ الباری ج8ص728، تفھیم البخاری  ج7ص535 )  ۔

قرآن پاک میں ہے۔ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّهِ۔                                                                              (پارہ6، سورہ النساء، آیت119)

خزائن العرفان میں اسی آیت کے تحت ہے۔ جسم کو گود کر سرمہ یا سیندور وغیرہ جلد میں پیوست کرکے نقش و نگار بنانا بالوں میں بال جوڑ کر بڑی بڑی جٹیں بنانا بھی اس میں داخل ہے۔(خزائن العرفان، پارہ6، سورہ النساء، آیت 119)

اعلی حضرت علیہ الرحمہ سے ایک سوال  ہوا جسم میں گودکر نام لکھوانے کے حوالے تو آپ نے جواباً ارشاد فرمایا۔ یہ غالبا خون نکال کر اسے روک کر کیا جاتاہے جیسے نیل گدوانا، اگریہی صورت ہو تو اس کے ناجائز ہونے میں کلام نہیں اور جبکہ اس کا ازالہ ناممکن ہے تو سوا توبہ واستغفار کے کیا علاج ہے مولٰی تعالٰی عزوجل توبہ قبول فرماتاہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔(فتاوی رضویہ، جلد23، صفحہ 387 )

فتاوی رضویہ میں ہے۔ بدن گدوانا شرعاً حرام ہے۔(فتاوی رضویہ، جلد24، صفحہ343)

بہار شریعت میں ہے۔ گودنا یہ کہ سوئی چھبو کر اس جگہ سرمہ بھر دیتے ہیں تو اگر خون اتنا نکلا کہ بہنے کے قابل ہو تو ظاہر ہے کہ وہ خون ناپاک ہے اور سرمہ کہ اس پر ڈالا گیا وہ بھی ناپاک ہو گیا۔ پھر اس جگہ کو دھو ڈالیں پاک ہو جائے گی اگرچہ ناپاک سرمہ کا رنگ بھی باقی رہے، یوہیں زخم میں راکھ بھر دی پھر دھو لیا پاک ہو گیا اگرچہ رنگ باقی ہو۔ (بہارشریعت،  جلد1، صفحہ398)

ھذا ماعندنا واللہ اعلم بالصواب                                  

شیر محمد خان مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف

                ضیاء المصطفی نائب مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف

                                                                                            محمد شعیب رکن دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف

تاریخ:2018۔06۔28

شیئر کریں:
ماخذ: آف لائن تحریری ریکارڈ