عام تلاش:

جوتے پہن کر جنازہ پڑھنا

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اندر ایں مسئلہ کہ کھلے میدان میں نماز جنازہ پڑھا جائے تو کئی لوگ جوتوں کے اوپر پاوں رکھ کر نماز جنازہ پڑھتے ہیں اس طرح نماز جنازہ ادا ہو جائیگی یا نہیں؟ شرعی رہنمائی مطلوب ہے۔

Nov 03, 2026 124 views
شیئر کریں:

جواب

الجواب بعون الملک الوھاب

بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیا

اگرتو وہ جوتے ایسے ہیں کے ان کے اوپر والے حصے پر نجاست نہیں لگی اور اوپر والا حصہ پاک ہےتو ان کے اوپر پاوں رکھنے سے نمازہ جنازہ ادا ہو جائے گی۔اگر تلوا ناپاک ہوا تو جوتے کے اندر نماز جنازہ ادا کی تو جنازہ ادا نہیں ہوگا۔  اگر استعمالی جوتے ہیں اور ان کے اوپر کی طرف نجاست کے چھینٹے پڑتے رہتےہیں اور ان جوتوں کی اوپر کی طہارت میں شک ہے توپھر نماز جنازہ بھی مشکوک رہا۔ بہتر یہ ہے کہ اگر ایسا کھلا میدان ہے جس میں کوئی عذر نہیں اور میدان بھی صاٖف ستھرا ہے۔ نجاست یا کانٹے وغیرہ نہیں تو جوتے اتار کر نماز جنازہ پڑھی جائے تاکہ تمام شکوک و شبہات سے بالا تر ہو کر نمازجنازہ ادا کی جائے۔عذر کی صورت میں مذکورہ بالا شرائط کا لحاظ رکھنا ہوگا۔

البحر الرائق میں ہے۔

       وَقَدْ قَدَّمْنَا فِي بَابِ شُرُوطِ الصَّلَاةِ أَنَّهُ لَوْ قَامَ عَلَى النَّجَاسَةِ، وَفِي رِجْلَيْهِ نَعْلَانِ لَمْ يَجُزْ، وَلَوْ افْتَرَشَ نَعْلَيْهِ وَقَامَ عَلَيْهِمَا جَازَتْ، وَبِهَذَا يُعْلَمُ مَا يُفْعَلُ فِي زَمَانِنَا مِنْ الْقِيَامِ عَلَى النَّعْلَيْنِ فِي صَلَاةِ الْجِنَازَةِ لَكِنْ لَا بُدَّ مِنْ طَهَارَةِ النَّعْلَيْنِ كَمَا لَا يَخْفَى۔   (البحر الرائق ج۲ص۱۹۳)

حاشہ الطحطاوی میں ہے۔

ولو افترش نعليه وقام عليهما جاز فلا يضر نجاسة ما تحتهما لكن لا بد من طهارة نعليه مما يلي الرجل لا مما يلي الأرض۔             (حاشیہ الطحطاوی ج۱ص۵۸۲)

المحیط البرھانی، بنایہ، تبیین الحقائق فتح القدیر میں ہے۔

أَلَا تَرَى لَوْ قَامَ فِي صَلَاتِهِ عَلَى نَجَاسَةٍ وَفِي رِجْلَيْهِ نَعْلَانِ لَا تَجُوزُ صَلَاتُهُ، وَلَوْ فَرَشَ نَعْلَيْهِ أَوْ جَوْرَبَيْهِ وَقَامَ عَلَيْهِمَا جَازَتْ۔      (فتح القدیر ج۱ص۱۶۹)

ردالمحتار میں ہے۔

          قَدْ تُوضَعُ فِي بَعْضِ الْمَوَاضِعِ خَارِجَ الْمَسْجِدِ فِي الشَّارِعِ فَيُصَلَّى عَلَيْهَا، وَيَلْزَمُ مِنْهُ فَسَادُهَا مِنْ كَثِيرٍ مِنْ الْمُصَلِّينَ لِعُمُومِ النَّجَاسَةِ وَعَدَمِ خَلْعِهِمْ نِعَالَهُمْ الْمُتَنَجِّسَةَ مَعَ أَنَّا قَدَّمْنَا كَرَاهَتَهَا فِي الشَّارِعِ۔                      (ردالمحتار ج۲ ص۲۲۶)

فتاوی رضویہ میں ہے۔

        اگر وہ جگہ پیشاب وغیرہ سے ناپاک تھی یا جن کے جوتوں کے تلے ناپاک تھے اور اس حالت میں جوتا پہنے ہوئے نماز پڑھی اُن کی نماز نہ ہوئی، احتیاط یہی ہےکہ جوتا اتار کر اس پر پاؤں رکھ کر نماز پڑھ لی جائے کہ زمین یا تلاناپاک ہو تو نماز میں خلل نہ آئے۔(فتاوی رضویہ ج۹ ص۱۸۸)

بہار شریعت میں ہے۔

                بعض لوگ جوتا پہنے اور بہت لوگ جوتے پر کھڑے ہو کر نماز جنازہ پڑھتے ہیں، اگر جوتا پہنے پڑھی تو جوتا اور اس کے نیچے کی زمین دونوں کا پاک ہونا ضروری ہے، بقدر مانع نجاست ہوگی تو اس کی نماز نہ ہوگی اور جوتے پر کھڑے ہو کر پڑھی تو جوتے کا پاک ہونا  ضروری ہے۔                (بہار شریعت ج۱ص۸۲۶)

فتاوی امجدیہ میں ہے۔

                 اگر جوتا پاک ہے تو اس کو پہن کر نماز جنازہ پڑھ سکتا ہے مگر بہتر یہ ہے ایسا نہ کرے کہ دیکھ کر دوسرے لوگ جن کے جوتے ناپاک ہیں وہ بھی پہن کر پڑھنے لگیں گے۔     (فتاوی امجدیہ ج۱ ص۳۱۸)

ھذا ماعندنا واللہ اعلم بالصواب

شیر محمد خان مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف

                ضیاء المصطفی نائب مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف

                                                                                            محمد شعیب رکن دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف

تاریخ:2020۔01۔20

شیئر کریں:
ماخذ: آف لائن تحریری ریکارڈ