عام تلاش:

لے پالک کے “ب ” فارم کے ولدیت کے خانے میں اپنا نام لکھوانا

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اندر ایں مسئلہ کہ لے پالک یا  منہ بولا بیٹا یا متنبیٰ بیٹے کی ولدیت میں بے فارم یا شناختی کارڈ  یا کاغذات میں حقیقی والد کے نام کی بجائے اپنا نام لکھوا سکتا ہے؟  وضاحت فرمائیں

Oct 23, 2026 14 views
شیئر کریں:

جواب

کسی لے پالک یا منہ بولا بیٹا یا بیٹی یا متبنیٰ بیٹا یا بیٹی کا نسب (یعنی حقیقی والد کو چھوڑ کر) اپنی طرف منسوب کرنا جس سے یہ شبہ ہو کا یہ اس کا اپنا حقیقی بیٹا ہے لے پالک یا منہ بولا بیٹا نہیں ایسا کرنا شرعاً ناجائز ہے اسی طرح بے فارم یا شناختی کارڈ پر حقیقی والد کی جگہ اپنا نام لکھوانا بھی جائز نہیں لہذا جو شخص اپنے حقیقی باپ کے علاوہ اپنے آپ کو کسی اور کی طرف منسوب کرے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ یہ شخص اس کا حقیقی باپ نہیں تو اس پر جنت حرام ہے ایک دوسری روایت میں ہے کہ اس نے کفر یعنی کفران نعمت یا اللہ تعالی کے حق یا اپنے باپ کے حق کا انکار کیا۔اور اگر کسی نے لاعلمی یا جان بوجھ کر یہ کیا ہے تو اللہ تعالی سے توبہ کریں اور معافی مانگیں اور کسی نہ کسی طریقے سے اس کا ازالہ کریں۔

قرآن پاک میں ہے۔وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ مَا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا۔                                                                                                 (پارہ21 سورہ احزاب آیت 4,5 )

 ترجمہ:۔ اور نہیں بنایا اس نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارے فرزند یہ صرف تمہارے منہ کی باتیں ہیں۔  اور اللہ تعالی تو سچی بات کہتا ہے اور وہ ہدایت دیتا ہے سیدھی راہ پر چلنے کی ۔ بلایا کرو انہیں ان کے باپوں کی نسبت سے۔  یہ زیادہ قرین انصاف ہے اللہ تعالی کے نزدیک۔  اگر تمہیں علم نہ ہو ان کے باپوں کا تو پھر وہ تمہارے دینی بھائی ہیں اور تمہارے دوست ہیں۔  اور نہیں ہے تم پر کوئی گرفت جو تم نادانستہ کر بیٹھو البتہ وہ کام جو تمہارے دل قصداکرتے ہیں( ان پر ضرور گرفت ہوگی ) اور اللہ تعالیٰ غفور الرحیم ہے۔

 حضرت ضیاء الامت  پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ تعالی علیہ یوں رقمطراز ہیں ۔

اسی طرح ان کے ہاں یہ رواج بھی تھا کہ اگر کوئی شخص کسی کو اپنا متبنیٰ بنا لیتا تو اسے حقیقی بیٹے کی طرح متبنیٰ  بنانے والے کی طرف منسوب بھی کیا جاتا اور اس متبنیٰ کو وہ تمام حقوق حاصل ہوجاتے جو حقیقی صلبی بیٹوں کے ہوتے ہیں۔  ایک تو یہ بات حقیقت کے سراسر خلاف تھی۔  دوسرا اس سے طرح طرح کی پیچیدگیاں اور الجھنیں پیدا ہوجاتی ہیں کئی مستحق لوگوں کی حق تلفی ہوتی اور خاندان کے افراد میں تلخیاں پیدا ہوجاتیں۔ اس لیے اسلام نے اس رواج کو بھی منسوخ کردیا اور بتادیا کہ کسی کے بیٹے کو اپنا بیٹا کہہ دینے سے وہ حقیقت میں تمہارا بیٹا نہیں بن جاتا۔

 اس آیت میں اللہ تعالی حکم دیتے ہیں کہ جب انہیں  بلاو تو ان کو ان کے حقیقی باپو ں کی نسبت سے بلاؤ انہیں ان لوگوں کا بیٹا کہہ کر مت پکارو جنہوں نے انہیں متبنیٰ  بنایا ہے اور اگر تمہیں ان کے حقیقی باپوں کا علم نہیں ہے تو پھر وہ تمہارے دینی بھائی ہیں انہیں بھائی یا دوست کہہ کر پکارو عربی زبان میں وہ لڑکا جسے اپنے حقیقی باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کیا جائے اسے الدعی  کہتے ہیں اس کی جمع ادعیاء ہے جو یہاں مذکور ہے اس کا مصدر الدعوۃ  ہے۔

             اس آیت سے اپنے نسب کی حفاظت کا حکم بھی دیا گیا ہے اور اس بات سے سختی سے روک دیا  کہ کوئی شخص دانستہ اپنے آپ کو کسی غیر کا بیٹا کہے۔  علامہ قرطبی نے اس موقع پر بہت احادیث نقل کی ہیں جن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے سے سختی سے منع فرمایا۔

(ضیاء القرآن جلد 4 صفحہ 12،13)

بخاری شریف میں ہے۔ عَنْ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ، فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ۔                                            (بخاری رقم الحدیث6766 بَابُ مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِج8ص156)

سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے نبی کریمﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے اپنی نسبت اپنے باپ کے غیر کی طرف کی حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ اس کا باپ نہیں اس پر جنت حرام ہے۔

اسی طرح مسلم، ابوداود، ابن ماجہ، مصنف عبد الرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ، مسند احمد، سنن الدارمی، مسند البزار وغیرہ کتب حدیث میں ہے۔

بخاری شریف میں ہے۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لاَ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ أَبِيهِ فَهُوَ كُفْرٌ۔                                                                         (بخاری رقم الحدیث6768 بَابُ مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِج8ص156)

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روائت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا اپنے آباء سے اعراض نہ کرو۔ جس نے اپنے باپ سے اعراض کیا اس نے کفر کیا۔

عمدۃ القاری میں ہے۔فقد كفر۔۔۔۔ المُرَاد كفران النِّعْمَة وإنكار حق الله وَحقّ أَبِيه أَو هُوَ للتغليظ۔۔۔۔۔۔قَوْله (لَا ترغبوا) هَذِه الْكَلِمَة إِذا اسْتعْملت بِكَلِمَة: عَن، تكون بِمَعْنى الْإِعْرَاض وَالتّرْك۔                                          (عمدۃ القاری ج23ص262)

تفھیم البخاری  میں علامہ غلام رسول رضوی صاحب تحریر فرماتے ہیں ہے۔

       جس نے اپنی نسبت اپنے باپ کی بجائے اور کسی طرف کی حالانکہ وہ جانتا ہے وہ شخص اس کا باپ نہیں اس پر جنت حرام ہے۔ یہ تہدید اور تغلیظ پر محمول ہے۔ ہاں جو اس کو حلال اور جائز کہتا ہے وہ کافر ہے اور کافروں پر جنت حرام ہے۔اس کے بعد ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے جس نے اپنے باپ سے اعراض کیا اس نے کفر کیا اس کا مفہوم بھی یہی ہے کہ وہ باپ سے اعراض اعراض کو جائز سمجھتا ہے تو کافر ہے یا کفر سے مراد کفران نعمت ہے یعنی جس نے ابوبیت جیسی عظیم نعمت کا انکار کیا ہے۔ یا اس نے اللہ تعالی کے حق یا اپنے باپ کے حق کا انکار کیا ہے۔ یا تہدید و تغلیظ پر محمول ہے۔                                                                                                             (تفھیم البخاری ج10 ص256)

نعم الباری میں ہے۔اس کفر سے مراد کفر باللہ نہیں ہے یعنی اللہ تعالی سے کفر کرنا مراد نہیں بلکہ اس سے مراد کفران نعمت ہے۔ یعنی اللہ تعالہ نے جو اس کو نسب حلال کی نعمت عطا فرمائی تھی اس نے اس کا انکار کیا۔۔۔۔۔ اگر کفر سے مراد کفر باللہ ہو تو یہ اس شخص پر محمول ہے جو شخص باپ کے غیر کی طرف منسوب ہو جانے کو جائز اور حلال سمجھے تو اس نے حرام کو حلال سمجھا اور حرام کو حلال سمجھنا کفر ہے۔ یا پھر یہاں کفر کا لفظ تغلیظ کے لئے ہے یعنی سخت گناہ ہے۔                                                                                                                        (نعم الباری ج14ص958)

عمدۃ القاری میں ہے۔

 وَقَامَ الْإِجْمَاع على أَنه لَا يجوز تَحْويل النّسَب                               (عمدۃ القاری باب الولاء والھبۃ ج13ص95)

اور اس بات پر اجماع قائم ہوا کہ نسب تبدیل کرنا جائز نہیں۔

فتاوی رضویہ  میں اعلی حضرت علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں۔

منہ بولابیٹانہ ایسے شخص کابیٹاہوتاہے اور نہ ہی اپنے باپ سے بے تعلق ہوتاہے کیونکہ حقیقتوں میں تغیرنہیں ہوتا۔                                                                                                                                                     ( فتاوی رضویہ ج26 ص178)

تفھیم المسائل میں ہے۔

کسی لے پالک کے بچے، متبنی یا منہ بولے بیٹے یا بیٹی کو حقیقی بیٹا سمجھنا اس کا درجہ دینا اس کی ولدیت تبدیل کرنا اپنے آپ کو اس کا والد قرار دینا یہ سب امور شرعاً ناجائز اور حرام ہیں۔                                                                                 ( تفھیم المسائل ج1 ص318)

مزید برآں تحریر فرمایا۔کسی لے پالک بچے یا بچی کا نسب اپنی طرف منسوب کرنا، تعلیمی اسناد اور شناختی کارڈ کے فارم میں باپ کی حیثیت سے اپنا نام درج کرانا شرعاً ناجائز امر ہے اگر کسی نے یہ کام نادانستہ اور شرعی مسئلے سے لا علمی کی بناء پر کیا ہے تو اللہ تعالی سے معافی مانگیں اور اس کا ازالہ کریں تاکہ تمام متعلقہ لوگوں کو اس کا صحیح نسب معلوم ہو جائے۔                                                                         (تفھیم المسائل ج1 ص319)

ھذا ماعندنا واللہ اعلم بالصواب                                  

شیر محمد خان مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف

                ضیاء المصطفی نائب مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف
                                                                                            محمد شعیب رکن دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف

تاریخ:2020۔06۔29

شیئر کریں:
ماخذ: آف لائن تحریری ریکارڈ