عام تلاش:

گانے کی طرز پر نعت پڑھنا کیسا؟

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اندر ایں مسئلہ کہ گانے کی طرز پر نعت پڑھنا کیسا ہے  ؟ بینوا تؤجروا۔

Sep 15, 2026 23 views
شیئر کریں:

جواب

الجواب بعون الملک الوھاب

بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیا

نعت  سنت خدا اور سنت مصطفیٰ ہے اور اہل سنت و جماعت ادب و احترام کے ساتھ نعت کو پڑھنا اور سننا محبت رسولﷺ کا ذریعہ اور نبی کریمﷺ کے قرب کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور ہمیشہ سے نعت خوانی کو اہمیت دیتے آئے ہیں اور پڑھتے اور سنتے آئے ہیں کیونکہ نبی کریمﷺ کی نعت پڑھنے میں حضرت حسان بن ثابت ،  حضرت عبد اللہ بن رواحہ ، حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہم کا نام آتا ہے  لہذا نعت کے عدم جواز کا تو تصور بھی نہیں کیا جا سکتا البتہ موجودہ  حالات  اور مروجہ نعت خوانی میں نعت خوانوں کی طرف سے کچھ تجاوز کیا جا رہا ہے جو شرعاً محمود نہیں اس لئے نعت کو موسیقی کی طرز یا گانوں کی طرز پر پڑھنا ممنوع ہے اس سے اجتناب ضروری ہے کیونکہ فی زمانہ یہ اِمتیاز کرنا بہت مشکل ہے کہ نعت گانے کی طرز پر پڑھی جا رہی ہے یا گانا نعت کی طرز پر گایا جا رہا ہے ، اَلبتہ پہلے والی طرزوں میں پڑھی جانے والی نعتوں میں جو رِقَّت اور سوز و گداز ہوا کرتا تھا وہ اب نئے اَنداز پر پڑھی جانے والی نعتوں میں نہیں ہے۔ اور محافل میں ایسے نعت خوان بلائے جائیں جو محبت مصطفیٰ ﷺ کے جام پلائے اور محبت و عشق مصطفیٰ کی تڑپ پیدا کریں نہ کہ گانا گانے والوں کی طرف بلائے جس سے عشق مجازی کی طرف دھیان جائے۔

فتاویٰ غوثیہ میں ہے کہ نعت پاک کو گانوں کی طرز میں پڑھنا اور سننا دونوں ناجائز ہے کیونکہ جب وہ گانے کی طرز پر نعت پڑھے گا جو کہ ذکر رسول ہے تو لامحالہ اس کا ذہن گانے کی طرف جائے گا۔تو یقیناً یہ غلط فعل ہے۔بلکہ یہ نعت کی توہین ہے فساق کا طریقہ ہے ۔

 (فتاویٰ غوثیہ مجموعہ فتاوی علماء اہل سنت،  جلد 1صفحہ 265)

مفتی منیب الرحمن صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ نعت شریف کو جان بوجھ کر گانوں کی طرز پر پڑھنا سخت قبیح ہے۔  (اصلاح عقائد و اعمال، صفحہ 52)

 ھذا ماعندنا واللہ اعلم بالصواب

شیر محمد خان مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف

                                                                                             محمد شعیب رکن دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف

تاریخ: 2026۔5۔19

شیئر کریں:
ماخذ: آف لائن تحریری ریکارڈ