جواب
صرف نماز کی ابتداءیعنی تکبیر تحریمہ میں ہی ہاتھوں کو رفع یدین کیا جائے گا اس کے بعد رفع یدین منسوخ ہو چکا ہے لہذا وہ احادیث جن سے رفع یدین رکوع و سجود کے وقت ثابت ہے وہ سب ابتدائے اسلام کی صورت حال پر محمول ہوں گی اور جن احادیث میں نفی ہے بعد کی صورت حال پر محمول ہوں گی جوکہ ناسخ ہوں گیعَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: «أَلَا أُصَلِّي بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَصَلَّى، فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ وَفِي البَابِ عَنْ البَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ. حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ،وَبِهِ يَقُولُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالتَّابِعِينَ
ترجمہ :۔ حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہم سے فرمایا کہ کیا میں تم کو رسول اللہ ﷺ کی نماز نہ پڑھ کر دکھاؤں ۔پس آپ نے نماز پڑھی اورہاتھوں کو اٹھایا مگر پہلی مرتبہ تکبیر تحریمہ کے ساتھ ( اس کے بعد نہ اٹھائے) ۔ امام ترمذی نے کہا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن ہے اور یہی قول بہت سے صحابہ ،تابعین اور علماء کا ہے
ترمذی رقم الحدیث 257باب رفع الیدین عند الرکوع ج 2 ص 40 )(رقم الحدیث 748سنن ابی داؤد )(حکم الالبانی صحیح)
(سنن النسائی رقم الحدیث 1058باب الرخصۃ فی ترک ذالک ج2ص195)(رقم الحدیث 323مصنف ابن ابی شیبہ )
(مسند ابی یعلی الموصلی رقم الحدیث 5040مسند عبد اللہ بن مسعودج8ص453)(حکم حسین سلیم اسد اسنادہ صحیح )
( الدرایہ فی تخریج احادیث الھدایہ زیر رقم الحدیث 181 باب ومن الآثار فی ذالک ج1ص149)(قال ابن القطان ھو عندی صحیح)
(صحیح ابی داؤد- الام رقم الحدیث 733باب من لم یذکر الرفع عند الرکوع ج3ص338)(قال ابن الحزم انہ صحیح و قواہ دقیق العید و الزیلعی و الترکمانی )
(الآلی المضوعہ فی الاحادیث الموضوعہ کتاب الصلوۃ ج 2 ص17)(صححہ ابن حزم )۔
تفصیل کے لئے ویڈیو دیکھیں