عام تلاش:

ولیمہ شادی کے بعد کس دن ہو

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اندر ایں مسئلہ کہ   ولیمہ شادی کے کس دن کرنا چاہئے؟ بینوا تؤجروا۔

Oct 08, 2026 489 views
شیئر کریں:

جواب

الجواب بعون الملک الوھاب

بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیا

ولیمہ شب زفاف کی اگلی صبح کو سنت ہے۔ بخاری شریف  میں ہے:۔

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ، فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ، قَالَ: «كَمْ سُقْتَ إِلَيْهَا؟» قَالَ: زِنَةَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ۔(بخاری، رقم الحدیث 5153، جلد7، صفحہ 21)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئےاس حال میں کہ ان پر زعفران کا  رنگ لگا ہوا تھا تو  رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ان سے (وجہ )پوچھی ،تو انہوں نے عرض کی  کہ انصار میں سے ایک عورت سے انہوں نے شادی کر لی ہے، تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے پوچھا:اسے کتنا مہر دیا؟عرض کیا:گٹھلی برابر(چھے مثقال) سونا،رسول اللہ صلی اللہ تعالی  علیہ وسلم نے فرمایا: ولیمہ کر اگرچہ ایک بکری کے ساتھ۔

حدیث  مبارک میں ہے۔ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «أَوْلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَنَى بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ۔ (بخاری،  رقم الحدیث 4794، جلد6، صفحہ 119)

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے  ولیمہ اس وقت کیا جب زینب بنت جحش سے شب زفاف کر لیا۔

الاختیار لتعلیل المختار میں میں ہے:۔

وھی اذا بنی الرجل  بامراتہ  ان ید عو الجیران والاقربا والاصدقاء ویذبح لھم  ویصنع لھم طعاما۔(الاختیار  لتعلیل المختار،جلد 4،صفحہ176)

ولیمہ یہ ہے کہ آدمی جب اپنی بیوی سے دخول کرلے ،تو پڑوسیوں اور رشتہ داروں اور دوستوں کی دعوت کرے اور ان کے لیے جانور ذبح کرے اور ان کے لیے کھانا تیار کرے۔

   خانیہ  میں ہے۔

رجل بنی  بامراۃ قالوا:ینبغی  ان یتخذ ولیمۃ و یدعو الجیران والاقربا ء والاصدقاء ویصنع  لھم طعاما ویذبح  لقولہ علیہ الصلاۃ والسلام اولم ولو بشاۃ۔                         (خانیہ ،جلد3،صفحہ306)

ایسا آدمی جس نے (شادی کے بعد)عورت سے دخول کر لیا،(اس کے متعلق )علماء نے فرمایا:مناسب ہے کہ ولیمہ کرے اور پڑوسیوں اور رشتہ داروں اور دوستوں کی دعوت کرے اور ان کے لیے کھانا تیار کرے اور جانور ذبح کرے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے اس ارشاد کی وجہ سےکہ (آپ ﷺ نے ایک صحابی کو فرمایا)ولیمہ کر اگرچہ ایک بکری ہو۔

فتاوی عالمگیری میں ہے ۔ وتسمیۃ العرس سنۃ وفیھا مثوبۃ  عظیمۃ وھی اذا  بنی الرجل بامراتہ  انہ ینبغی   ان ید عو الجیران والاقربا  ء والاصدقاء ویذبح لھم  ویصنع لھم طعاما۔                                                                                                                                (عالمگیری ،جلد5،صفحہ343)

اور دعوت ولیمہ سنت ہے اور اس میں بڑا ثواب ہے اور ولیمہ یہ ہے کہ آدمی جب اپنی بیوی سے دخول کرے ،تو پڑوسیوں اور رشتہ داروں اور دوستوں کی دعوت کرے اور ان کے لیے جانور ذبح کرے اور ان کے لیے کھانا تیار کرے۔

البنایہ میں ہے۔ ولو بنى الرجل بامرأته ينبغي أن يولم، والوليمة حسنة، ويدعو الجيران والأصدقاء، ويصنع لهم طعاما ويذبح لهم ۔                                                              (البنایہ، جلد12، صفحہ 89)

فتاوی رضویہ میں ہے: شبِ زفاف کی صبح کو احبا ب کی دعوت کرناولیمہ ہے ،رخصت سے پہلے جو دعوت کی جائے ولیمہ نہیں،یونہی بعد رخصت قبل زفاف(ہمبستری سے پہلے) ۔                                                          (فتاوی رضویہ ،جلد11،صفحہ256)

اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ  ایک سوال کہ ولیمہ  نکاح  کی سنت ہے یازفاف  کی اور نابالغ کانکاح ہو،تو ولیمہ کب اور کس دن کرے‘‘اس کے جواب میں فرماتےہیں کہ : ولیمہ زفاف کی سنت ہے اور نابالغ بھی بعد زفاف کے ولیمہ کرے اور ولیمہ شب زفاف  کی صبح کو کرے ۔

(احکام شریعت ،صفحہ229،مطبوعہ اکبر بک سیلرز اردو بازار)

بہار شریعت میں ہے۔

دعوت ولیمہ سنت ہے ۔ولیمہ یہ ہے کہ شب زفاف کی صبح کو اپنے دوست احباب عزیز واقارب اور محلہ کے لوگوں کی حسب استطاعت ضیافت کرے اور اس کےلیے جانور ذبح کرنا اور کھاناتیار کرانا ، جائز ہے اور جولوگ بلائے جائیں ان کوجانا چاہیے کہ ان کاجانا اس کےلیے مسرت کاباعث ہوگا۔

(بہارشریعت ،جلد3،صفحہ391،392 )

ھذا ماعندنا واللہ اعلم بالصواب

شیر محمد خان مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف

ضیاء المصطفی نائب مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف

                                                                                            محمد شعیب رکن دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف

تاریخ: 2026۔06۔30

شیئر کریں:
ماخذ: آف لائن تحریری ریکارڈ