سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اندر ایں مسئلہ کہ قبر کا طواف کرنا کیسا ہے؟
جواب
الجواب بعون الملک الوھاب
بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیا
راجح قول یہ ہے کہ قبر کا طواف ممنوع ہے کیونکہ طواف کرنا کعبۃ اللہ کے ساتھ خاص ہےاس لئے کسی اور جگہ ،مزار یا قبر کا طواف کرنا بھی ممنوع ہے ۔ لہذا ایسے امور سے ہر صورت میں اجتناب کرنا چاہئے۔
ملا علی قاری علیہ الرحمہ اپنی کتاب المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط میں تحریر فرماتے ہیں۔
ولا یطوف ای لایدور حول البقعۃ الشریفۃ لان الطواف من مختصات الکعبۃ المنیفۃ فیحرم حول قبور الانبیاء والاولیاء و لا عبرۃ بما یفعلہ العامۃ الجھلۃ و لو کانوا فی صورۃ المشائخ والعلماء۔
( المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط فصل ولیغتنم ایام مقامہ بالمدینۃ االمشرفۃ صفحہ293)
اعلی حضرت علیہ الرحمہ طواف کی اقسام اور ان کے تفصیلی احکام تحریر کرنے کے بعد فتوی کے آخر میں تحریر فرماتے ہیں کہ ہاں یہاں یہ امر ضرور قابل لحاظ ہے کہ یہاں نیت جائز و نیت حرام ایسی متقارب ہیں جیسے آنکھ کی سیاہی سے سپیدی، تو عوام کے لئے اس میں ہرگز خیر نہیں ۔۔۔۔۔۔یہ بحمد اللہ تحقیق حکم ہے۔ اور احتراز و احتیاط ہر طرح اسلم ہے و باللہ التوفیق و اللہ تعالی اعلم ۔ ۔( فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 400)
فتاوی رضویہ میں قبر کے طواف کے بارے میں سوال ہوا ہو تو اعلی حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔ راجح یہ ہے کہ ممنوع ہے۔
مزید برآں تحریر فرمایا کہ مزار کا طواف محض بہ نیت تعظیم کیا جائے ناجائز ہے کہ تعظیم بالطواف مخصوص بخانہ کعبہ ہے۔ (فتاوی رضویہ جلد9، صفحہ528)
بہار شریعت میں ہے۔ قبر کا طوافِ تعظیمی منع ہے۔ (بہار شریعت، جلد1، صفحہ850، حصہ چہارم)
ھذا ماعندنا واللہ اعلم بالصواب
شیر محمد خان مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف
ضیاء المصطفی نائب مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف
محمد شعیب رکن دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف
تاریخ: 2021۔02۔03