سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اندر ایں مسئلہ کہ عشر کے مسائل کی رہنمائی فرمائیں ؟ بینوا تؤجروا۔
جواب
الجواب بعون الملک الوھاب
بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیا
(1)۔جو کچھ زمین سے پیدا وار حاصل ہوتی ہے اس پر عشر ادا کرنا فرض ہے۔ عشر مالک زمین اور مزراع اپنے اپنے حصے سے ادا کریں گے اور ٹھیکہ کی صورت میں فصل اٹھانے والے کو کافی بچت ہوتی ہے تو پھر فصل اٹھانے والے پر عشر ہوگا ورنہ مالک زمین پر۔
(2)۔ عشر کے مصارف وہی ہیں جو کہ زکوۃ کے مصارف ہیں۔
(3)۔بارانی زمین میں دسواں اور نہری یا ٹیوب ویل وغیرہ سے سیراب کی جانے والی زمین کی فصل میں بیسواں حصہ نکالنا ہوگا۔ البتہ بھوسہ، مسہ (توڑی) اور چھانگ یعنی درختوں کی ٹہنیوں پر عشر نہیں ہوگا کیونکہ یہ فرع ہیں اصل مقصود (کاشتکاری)نہیں۔ نیز کاشتکاری یا کٹائی وغیرہ کے اخراجات دسویں یا بیسویں حصے میں سے نہیں نکالے جائیں گے بلکہ اپنے پاس بچ رہنے والے 9یا 19 حصوں میں سے منھا(کم یا نکالے) کئے جائیں۔
(4)۔عشر کی رقم یکمشت دینا لازم نہیں متفرق طور پر بھی دی جا سکتی ہے۔
(5)۔ نابالغ بچی یا بچے کی زمین کی پیداوار میں عشر لازم ہوگا۔ کیونکہ یہ مؤنۃ الارض ہے اور شکرانہ ہے۔
(6)۔جب کسی فصل کا عشر ادا کر دیا جاتا ہے تو جب تک وہ اپنی اصلی حالت میں موجود رہتی ہے اس پر دوبارہ عشر نہیں۔
(7)۔ عشر ادا کرتے ہوئے کاشتکاری کے اخراجات منھا(نکالے) نہیں کئے جائیں گے بلکہ کل پیداوار کا عشر دینا واجب ہے۔
(8)۔ٹھیکہ پر زمین دینا بھی جائز ہے۔
(9)۔ پیدوار ضائع ہوجائے خواہ حاصل ہونے کے بعد تو عشر نہیں۔
(10)۔ غاصب پر بھی عشر ہوگا۔
(11)۔ اصل فصل پر عشر ہوگا نہ کہ فرع پر۔
(12)۔ عشر میں نصاب ضروری نہیں۔
(13)۔ عشر میں حولان حول (سال کا گزرنا)شرط نہیں۔
(14)۔ عشری زمین کی شہد پر بھی عشر واجب ہوگا۔
(15)۔عشر مقروض پر بھی ہوگا۔
(16)۔ اگر زمین فروخت کر دی تو عشر بائع پر ہوگا اگر فصل کے ساتھ بیچ دی اور فصل بعد میں پکی تو عشر مشتری پر ہوگا۔
(17)۔ کچی فصل پر عشر نہیں۔
(18)۔ چارہ پر بھی عشر یا نصف عشر (بیسواں حصہ)ہوگا۔
(19)۔ عمدہ چیز ادا کرے۔ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ۔
جیسے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے باغ برخاء دے دیا تھا سرکار دوعالمﷺ کی بارگاہ میں۔
(20)۔ بہو اور داماد اور سوتیلی ماں یا سوتیلے باپ یا زوجہ کی اولاد یا شوہر کی اولاد کو دے سکتا ہے اور رشتہ داروں میں جس کا نفقہ اس کے ذمہ واجب ہے، اسے زکوۃ و عشر دے سکتا ہے جب کہ نفقہ میں محسوب نہ کرے۔
نوٹ:۔ عوام الناس کی سہولت کے پیش نظر ساتھ مکمل دلائل و حوالہ جات لکھنے کی بجائے جو مسئلہ معلوم ہونا چاہئے وہی تحریر کر دیا گیا ہے۔
ھذا ماعندی واللہ اعلم بالصواب
شیر محمد خان
مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف
تاریخ: 2017۔04۔26