سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اندر ایں مسئلہ کہ اپنےھائی کو زکوۃ دینا جائز ہے یا نہیں؟ جبکہ وہ غریب (مصرف زکوۃ )ہوں۔
جواب
الجواب بعون الملک الوھاب
بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیا
اپنےبھائی کو زکوۃ دے سکتے ہیں۔ جیساکہ اعلی حضرت علیہ الرحمۃ زکوۃ کن مصارف میں دینا جائز ہے کہ تحت لکھتے ہیں۔ اپنے بہن، بھائی، چچا، پھوپھی، خالہ، ماموں، بلکہ انھیں دینے میں دونا ثواب ہے۔(فتاوی رضویہ ج10ص110)
علامہ نوراللہ نعیمی علیہ الرحمۃ ایک سوال کے جواب میں یوں رقمطراز ہیں۔ بہن اور بھائی مسکین و فقیر کو جائز ہے۔(فتاوی نوریہ ج2ص64)
بہار شریعت میں ردالمحتار عالمگیری وغیرہ کے حوالہ سے منقول ہے۔ اپنی اصل یعنی ماں، باپ، دادا، دادی، نانا، نانی، وغیرہ جن کی اولاد میں یہ ہے اور اپنی اولاد بیٹا، بیٹی پوتا، پوتی، نواسا، نواسی، وغیرہ کو زکوۃ نہیں دے سکتا۔ یوہیں صدقہ فطر و نذرو کفارہ بھی انھیں نہیں دے سکتا۔ (بہار شریعت ج1ص927،ردالمحتارج2ص346)
ھذا ماعندنا واللہ اعلم بالصواب
شیر محمد خان مفتی دارالافتاء المحمدیہ الغوثیہ بھیرہ الشریفہ ضلع سرگودھا
ضیاء المصطفی نائب مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف
محمد شعیب رکن دارالافتاء المحمدیہ الغوثیہ بھیرہ شریف
date 2.6.2018