سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اندر ایں مسئلہ کہ کسی شخص کو بھینس کے ساتھ بد فعلی کرتے ہوئے دو گواہ جو عینی شاہد ہوں پکڑ لیں تو اس شخص پر کیا تعزیر و سزا ہوگی اور اس بھینس کے متعلق شرعاً کیا حکم ہے؟
جواب
الجواب بعون الملک الوھاب
بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیا
ایسے شخص کی سزا حاکم وقت کی رائے پر موقوف ہے اگر وہ عادی مجرم ہو تو حاکم وقت کا اس کو تعزیر اقتل کرنا بھی جائز ہے اور اگر عادی مجرم نہ ہو تو اس کو عبرت ناک سزا بھی دے اور قید بھی کرے تا کہ آئندہ کسی کم بخت کو ایسا فعل شنیع کرنے کی جرات نہ ہو۔
زیادات میں ہے :
والرأى إلى الإمام ان شاء قتله إن اعتاد ذلك وإن شاء ضربه وحبسه
ترجمہ: کہ ایسا فعل جس پر حد مقرر نہیں ہے تو اس صورت میں اس کی سزا حاکم وقت کی رائے پر موقوف ہے اگر وہ عادی مجرم ہے تو اگر اس کو قتل کرنا چاہے، تو قتل بھی کر سکتا ہے ورنہ اس کو جسمانی سزا اور قید کرنا چاہے تو ایسا بھی کر سکتا ہے۔
اور اس بھینس کی قیمت اس سے لے کر بھینس کے مالکوں کو دی جائے اور بھینس کو ذبح کر کے دفن کر دیا جائے ۔ جیسا کہ ہدایہ شریف میں ہے:
والذي يروى أنه تذبح البهيمة
روایت ہے جس جانور کے ساتھ کوئی انسان فعل شنیع کرے تو اسے ذبح کر دیا جائے ۔
ردالمحتار میں ہے۔
(قَوْلُهُ وَتُذْبَحُ ثُمَّ تُحْرَقُ) أَيْ لِقَطْعِ امْتِدَادِ التَّحَدُّثِ بِهِ كُلَّمَا رُئِيَتْ وَلَيْسَ بِوَاجِبٍ كَمَا فِي الْهِدَايَةِ وَغَيْرِهَا، وَهَذَا إذَا كَانَتْ مِمَّا لَا تُؤْكَلُ، فَإِنْ كَانَتْ تُؤْكَلُ جَازَ أَكْلُهَا عِنْدَهُ. وَقَالَا: تُحْرَقُ أَيْضًا، فَإِنْ كَانَتْ الدَّابَّةُ لِغَيْرِ الْوَاطِئِ يُطَالَبُ صَاحِبُهَا أَنْ يَدْفَعَهَا إلَيْهِ بِالْقِيمَةِ
(رد المحتار، جلد4، صفحہ 26)
فتاوی دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف ضلع سرگودہا، صفحہ 510
ھذا ماعندی واللہ اعلم بالصواب
قاضی محمد ایوب
مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف
ضلع سرگودھا