سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اندر ایں مسئلہ کہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اندر ایں مسئلہ کہ کیا انبیاء کرام پر فلم سازی کی جا سکتی ہے؟
کیا انبیاء کرام کی حیات مبارکہ پر فلمیں بنانا اور اداکاروں کا فلموں میں انبیاء کا کردار ادا کرنا، انہی کے زمانوں کے لباس اور ماحول کو اجاگر کرنا، انبیاء علیھم السلام کے کلمات و واقعات کو عام انسان کا نبی علیہ السلام کے کردار میں ادا کرنا کیسا ہے؟
کیا یہ فقط ایک گناہ ہے یا نعوذ باللہ توہین رسالتﷺ، اہانت انبیاء علیھم السلام اور تحقیر و تضحیک انبیاء علیھم السلام کے زمرے میں آتا ہے؟
سائل :۔ راؤ عبدالرحیم (چیئرمین ناموس رسالت لائرز فورم پاکستان)
جواب
الجواب بعون الملک الوھاب
بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیا
انبیاء کرام علیھم السلام کے بارے فلم سازی شرعاً ممنوع و حرام ہے اور بالآخر حد کفر و ارتداد تک پہنچانے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اور ایسی فلمیں جن میں ادا کار انبیاء کرام علیھم السلام کی تمثیل پیش کرتے ہیں اس میں کئی خرابیاں ہیں اور غیر شرعی امور کا ارتکاب کیا گیا ہے۔ مثلاً غیر نبی کو نبی کہنا یا ایسی شکلوں میں تمثیل پیش کرنا جس سے بالآخر تنقیص شان انبیاءکا پہلو نکلتا ہے اور ذہنوں میں ان مقدس ہستیوں کا تقدس باقی نہیں رہتا خصوصاً نئی نسل کے ذہنوں پر برا اثر پڑتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ غیر اسلامی نظریات کا پرچار ہے۔ یا وہ فلمیں جن میں قرآن پاک کے بیان کردہ نظریات کو جھٹلایا گیا ہے جیسا کہ بعض فلموں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پھانسی دئیے جانے کا نظریہ، ایسا کرنا انجام کار قرآن پاک کی تکذیب(جھٹلانا) ہے اور قرآن پاک کو جھٹلانا کفر ہے۔
حالانکہ قرآن پاک میں ہے۔
وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا۔
(سورہ النساء آیت 157،158)
ترجمہ ضیاء القرآن:۔ اور ان کے اس قول سے کہ ہم نے قتل کردیا ہے مسیح عیسیٰ فرزند مریم کو جو اللہ کا رسول ہے حالانکہ نہ انھوں نے قتل کیا اور نہ اسے سولی چڑھا سکے بلکہ مشتبہ ہوگئی ان کے لیے (حقیقت) اور یقیناً جنھوں نے اختلاف کیا ان کے بارے میں وہ بھی شک و شبہ میں ہیں ان کے متعلق نہیں ان کے پاس اس امر کا کوئی صحیح علم بجز اس کے کہ وہ پیروی کرتے ہیں گمان کی اور نہیں قتل کیا انھوں نے اسے یقینا۔ بلکہ اٹھالیا ہے اسے اللہ نے اپنی طرف اور ہے اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا۔ (تفسیر ضیاء القرآن از جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ)
لہذا CD’S بنانے والوں، فروخت کرنے والوں نیز ٹی وی چینلز پر ان فلموں کو دکھانے والوں کو اگر علم نہ ہو کہ ایسے واقعات کی منظر کشی کی گئی ہے جن سے قرآن پاک کی تکذیب لازم آتی ہے تو بھی اس سے ماٰلاً (بالآخر) لزوم کفر ثابت ہوگا البتہ اگر انہیں مطلع کر دیا گیا کہ ایسا کرنا کفر ہے اس کے باوجود وہ اس کام سے باز نہ آئے تو التزام کفر کے مرتکب ہوئے کہ ان پر کافر و مرتد ہونے کا حکم صادر کر دیا جائے گا۔ اور ارتداد اور توہین ایکٹ کے تحت ان کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اور وہ فلمیں جن میں صحابہ کرام کی تنقیص شان کا پہلو نکلتا ہے۔ اس میں توہین صحابہ ایکٹ کے تحت کاروئی کی جائے گی۔
فتاوی شامی میں ہے۔
وَيَجِبُ حَمْلُهُ عَلَى مَا إذْ عَلِمَ الْمُنْكِرُ ثُبُوتَهُ قَطْعًا لِأَنَّ مَنَاطَ التَّكْفِيرِ، وَهُوَ التَّكْذِيبُ أَوْ الِاسْتِخْفَافُ عِنْدَ ذَلِكَ يَكُونُ أَمَّا إذَا لَمْ يَعْلَمْ فَلَا إلَّا أَنْ يَذْكُرَ لَهُ أَهْلُ الْعِلْمِ ذَلِكَ فَيَلِجُّ۔ (فتاوی شامی ج6 ص357 دارالکتب العلمیہ بیروت)
ترجمہ:۔ تکفیر کو اس پر محمول کرنا لازمی ہے کہ قطعی طور پر ثابت ہونے والے امر کے منکر کو اس کی قطعیت کا علم بھی ہو کیونکہ کسی کو کافر قرار دینے کا مدار جھٹلانے یا استخفاف پر ہے، تکفیر تکذیب یا استخفاف پر ہی ہوتی ہے۔ اگر وہ اسے نہیں جانتا تو اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی مگر یہ کہ اگر اسے اہل علم اس کا قطعی ہونا بتا دیں۔ (اور وہ تب بھی انکار کرے) تو وہ کفر میں داخل ہو جائے گا۔
امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے کفر لزومی اور التزامی کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے۔
التزامی یہ کہ ضروریات دین سے کسی شئی کا تصریحات خلاف کرے یہ قطعا اجماعا کفر ہے اگر چہ نام کفر سے چڑے اور کمال اسلام کا دعوٰی کرے۔ کفر التزامی کے یہی معنی نہیں بلکہ صاف صاف اپنے کافر ہونے کا اقرار کرتاہو جیسا کہ بعض جہال سمجھتے ہیں۔ یہ اقرار تو بہت طوائف کفار میں بھی نہ پایا جائے گا ہم نے دیکھا ہے بہیترے ہندو کافر کہنے سے چڑتے ہیں بلکہ اس کے یہ معنی کہ جو انکار اس سے صادر ہوا یا جس بات کا اس نے دعوٰی کیا وہ بعینہ کفر ومخالف ضروریات دین ہو جیسے طائفہ تالفہ نیاچرہ کا وجود ملک وجن وشیطان وآسمان ونار وجنان و معجزات انبیاء علیہم افضل الصلٰوۃ والسلام سے ان معانی پر کہ اہل اسلام کے نزدیک حضور ہادی برحق صلوات اللہ وسلامہ علیہ سے متواتر ہیں انکار کرنا اور اپنی تاویلات باطلہ وتوہمات عاطلہ کو لے مرنا نہ ہر گز ہرگز ان تاویلوں کے شوشے انھیں کفر سے بچائیں گے نہ محبت اسلام وہمدردی قوام کے جھوٹے دعوے کام آئیں گے
قَاتَلَهُمُ اللَّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ (اللہ انھیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں۔ ت)
اور لزومی یہ کہ جوبات اس نے کہی عین کفر نہیں مگر منجر بکفر ہوتی ہے یعنی مآل سخن ولازم حکم کو ترتیب مقدمات وتتمیم تقریبات کرتے لے چلئے توانجام کار اس سے کسی ضروری دین کا انکار لازم آئے . (فتاوی رضویہ ج15 ص431 رضاء فاؤنڈیشن لاہور)
ارباب اقتدار پر لازم ہے کہ اس قسم کی غیر شرعی اور فتنہ انگیز فلموں کی ریلیز پر پابندی عائد کریں اور اس میں ملوث جملہ عناصر کو قرار واقعی سزا دیں تاکہ مسلمانوں کو اشتعال انگیزی سے روکا جاسکے۔
سرکار دوعالمﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔
مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ۔ (مسلم شریف رقم الحدیث49 باب بیان کون النھی عن المنکر من الایمان)
ترجمہ:۔ اور تم میں سے جو شخص خلاف شریعت کام دیکھے تو اپنے ہاتھوں سے اس کی اصلاح کرے اگر طاقت نہ رکھتا ہو تو زبان سے اس کا رد کرے اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو دل سے اسے برا جانے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔
اور ہر مسلمان اس حدیث مبارکہ پر عمل کرتے ہوئے جہاں تک ممکن ہے قانونی طریقہ سے سد باب کی کوشش کرے تاکہ اس مذموم کام کو روکا جا سکے اور عوام الناس خصوصاً نئی نسل کو اس کے برے نتائج سے محفوظ رکھا جا سکے۔
حضور نبی کریمﷺ کی تصویر یا خاکے بنا کر سطحی قسم کے تصورات پیش کرتے ہیں وہ بھی تنقیص شان مصطفیٰ ﷺ کے مرتکب ہیں کیونکہ تقدس کا تصور باقی نہیں رہتا بلکہ ایک عام انسان کا تصور پیش کیا جا رہا ہوتا ہے۔ لہذا ایسے افراد کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنی چاہئے اور بذریعہ عدالت انہیں سزا دلوانی چاہئے۔
اللہ رب العزت حامی و ناصر ہو اور ہدایت کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
ھذا ماعندی واللہ اعلم بالصواب
شیر محمد خان
مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف
تاریخ:2012۔12۔19