سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اندر ایں مسئلہ کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو غصہ کی حالت میں بایں الفاظ طلاق دی کہ میں نے تجھے تین طلاق سے چھوڑا یا کہے میں نے تجھے طلاق دی، میں نے تجھے طلاق دی ،میں نے تجھے طلاق دی تو اس کے متعلق حکم شرع بیان فرمائیں؟ بینوا و تؤجروا۔
جواب
جمہور آئمہ جن میں آئمہ اربعہ بھی ہیں سب کا مذہب یہی ہےکہ اس طرح تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں۔ لہذا اس مرد کی بیوی اس پر حرام ہو چکی اور حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ کے بغیر اس پر حلال نہیں ہو سکتی۔ اور یہ وہ فیصلہ ہے جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں صادر فرمایا۔ اور کسی صحابی سے انکار منقول نہیں اور صحابہ کرام کا اجماع اس بات کی بین دلیل ہے کہ یہ حکم سنت کے عین مطابق ہے۔ وگرنہ وہ صحابہ جو شریعت کی معمولی خلاف ورزی بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے وہ خاموش نہ رہتے۔
نیز صحیح بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عُوَيْمِرَ الْعَجْلَانِيَّ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًابِحَضْرَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ (مسلم)
ترجمہ:۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ عویمر عجلانی نے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اپنی عورت کو تین طلاقیں(یکبارگی) دیں۔
معلوم ہوا اگر تین طلاقیں واقع نہ ہوتیں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے منع فرماتے۔ اگر اس وقت اس کے غصہ میں ہونے کی وجہ سے خاموشی اختیار فرمائی تھی تو بعد میں انہیں سمجھا دیتے لیکن بعد میں سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاموشی اختیار کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس طرح طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں اور کئی ایسے مسائل ہیں جو دلیل ناسخ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم میں پہلے متنازعہ فیہ رہے اور حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ان کا ایک بات پر اتفاق ہوا۔ مثلا نماز جنازہ کی تکبیرات سرکاردو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر مختلف تکبیرات فرمائیں۔ بعض دفعہ تین، بعض دفعہ چار، بعض دفع پانچ۔ خلافت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور خلافت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ تک مختلف طریقوں سے صحابہ کرام جنازہ پر تکبیریں کہتے رہے۔ لیکن آپ کے زمانہ میں چار تکبیرات پر صحابہ کرام نے حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے فیصلہ کے مطابق اجماع کر لیا۔ نیز سرکار دوعالم ﷺ کا فرمان ہے لَا تَجْتَمِعُ أُمَّتِي عَلَى الضَلَالَةٍ کہ میری امت گمراہی پر جمع نہیں ہوسکتی۔ لہذا صحابہ کرام کا اس بات پر اجماع ہے کہ اگر کوئی شخص یکبارگی تین طلاق دے گا تو تینوں واقع ہو جائیں گی۔ یہی عین شریعت کے مطابق ہے۔ نیز حدیث پاک میں ہے۔ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ طَلَّقَ بَعْضُ آبَائِي امْرَأَتَهُ أَلْفًا فَانْطَلَقَ بَنُوهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَانَا طَلَّقَ أُمَّنَا أَلْفًا فَهَلْ لَهُ مِنْ مَخْرَجٍ؟ فَقَالَ إِنَّ أَبَاكُمْ لَمْ يَتَّقِ اللَّهَ فَيَجْعَلْ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ مَخْرَجًا بَانَتْ مِنْهُ بِثَلَاثٍ عَلَى غَيْرِ السُّنَّةِ وَتِسْعُمِائَةٌ وَسَبْعَةٌ وَتِسْعُونَ إِثْمٌ فِي عُنُقِهِ۔
(سنن دارقطنی)
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ میرے ابا میں سے کسی نے اپنی زوجہ کو ایک ہزار طلاقیں دے دیں اور اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا آنحضرتﷺنے فرمایاکہ تمھارے باپ نے اللہ تعالی سے خوف نہ کیا کہ اللہ تعالی اس کے لیے اس معاملہ کا کوئی حل بنا دیتا، تو اس کی بیوی کو اس کے اس فعل سے تین طلاقیں ہو گئیں اور باقی 997 طلاقیں اس کی گردن پر گناہ ہیں۔
اسی طرح السنن الکبریٰ میں ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ تم میں سے ایک شخص احمق بنتا ہے اور اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیتا ہے اور پھر ابن عباس پکارتا ہوا آتا ہے۔حالانکہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ جو شخص اللہ تعالی سے ڈرتا ہے اللہ تعالی اس کے لیے بہتری کا راستہ نکال دیتے ہیں لیکن تم نے خدا سے خوف نہ کھایا لہذا میں تمہارے لیے کوئی راستہ نہیں پاتا۔اور تم گناہگار ہوئے اور تمہاری زوجہ تم سے اس کے بعد بائنہ ہوچکی ہے۔
اس طرح اس کی بیوی بھی اس پر حرام ہو چکی ہے اور اس طرح طلاق دینے سے وہ گناہ گار ہوا۔
ھذا ماعندی واللہ اعلم بالصواب
کتبہ العبد المنیب محمد ایوب
مفتی دارالافتاء المحمدیہ الغوثیہ بھیرہ الشریفہ ضلع سرگودھا