سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اندر ایں مسئلہ کہ اگر کسی نے اپنی بیوی کو کہا طلاق سمجھ لو ، یا طلاق سمجھ ۔ آیا شوہر کے اس قول سے طلاق واقع ہو گی یا نہیں ؟ بینوا توجروا ۔
جواب
الجواب بعون الملک الوھاب
بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا ومصلیا
اگر کسی نے اپنی بیوی کو کہا طلاق سمجھو تو شوہر کے اس قول سے طلاق واقع نہیں ہو گی ۔ جیسا کہ فتاوی امام قاضی خان میں ہے ۔ امراۃ قالت لزوجھا مرا طلاق دہ ۔۔۔۔۔۔۔۔و لو قال الزوج دادہ دادہ انکار،او قال کردہ آنکارلا یقع الطلاق و ان نوی ، کانہ قال بالعربیۃ احسبی انک طالق ، و ان قال ذالک ، لا یقع وان نوی ۔
(فتاوی قاضی خان برحاشیہ عالمگیری ج1ص457،مکتبہ رشیدیہ )
ترجمہ :۔ بیوی نے اپنے شوہر سے کہا ۔’’مجھے طلاق دے دو ۔۔۔۔۔۔۔۔(یہاں کئی کلمات ذکر کرنے کے بعد امام قاضی خان لکھتے ہیں )شوہر نے جواب میں کہا : تو دی ہوئی یا کی ہوئی خیال کر لے ۔ تو اگرچہ شوہر نے طلاق کی نیت سے یہ کلمات کہے ہوں ، (تب بھی ان الفاظ سے )طلاق واقع نہیں ہوگی ۔ یہ کلمات ایسے ہیں ، جیسے کوئی شوہر عربی میں اپنی بیوی سے کہے ،’’سمجھو کہ تجھے طلاق ہے (یایہ کہ تم طلاق سمجھو )، تو اگر شوہر نے طلاق کی نیت سے بھی یہ کلمات کہے ہوں ، تب بھی طلاق واقع نہیں ہوگی ۔ (اس لئے کہ طلاق انشاء ات میں سے ہے اور یہ انشاء نہیں ، کیونکہ انشاء کا مطلب ہے قصد و یقین کے ساتھ کوئی بات نافذ کرنا )۔(تفھیم المسائل ج5ص388)
اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ ایک سوال کے جواب میں یوں رقمطراز ہیں ۔
صورت مستفسرۃ میں طلاق نہ ہوئی ۔ کما بیناہ فی فتاوئنا و نص فی الخانیہ ان احسبی انک طالق لیس بطلاق و فی الھندیہ عن الخلاصۃ امراۃ قالت لزوجھا مرا طلاق دہ فقال دادہ انگار او کردہ انگار لا یقع و ان نوی ۔ جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی میں بیان کیا ہے اور خانیہ میں نص موجود ہے کہ خاوند کا بیوی کو کہنا کہ تو طلاق سمجھ لے یہ طلاق نہیں ہے اور ہندیہ میں خلاصہ سے منقول ہے کہ کسی عورت نے اپنے خاوند کو کہا کہ مجھے طلاق دے تو خاوند نے جواب میں کہا تو (اس کو )طلاق دی ہوئی یا طلاق کی ہوئی سمجھ لے ‘‘تو طلاق نہ ہوگی اگرچہ اس سے طلاق کی نیت کی ہو ۔ (فتاوی رضویہ ج13ص243,244)
ھذا ماعندی واللہ اعلم بالصواب
شیر محمد خان
مفتی دارالافتاء المحمدیہ الغوثیہ بھیرہ الشریفہ ضلع سرگودھا
تاریخ: 2017۔12۔ 28