عام تلاش:

میلاد مصطفیٰﷺ اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ کی نظر میں

سوال

اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے نزدیک میلاد منانا کیسا؟

Aug 20, 2026 29 views
شیئر کریں:

جواب

میلاد مصطفیٰﷺ اعلی حضرت علیہ الرحمۃ کی نظر میں

مصنف:۔ اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ

حسب ارشاد:۔ مفتی شیر محمد خان صاحب

دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف

بانی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ فاضل ضلع بھکر

مرتب:۔

         محمد شعیب

رکن دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف

اعلی حضرت علیہ الرحمۃ نے فتاوی رضویہ میں یوں نقل فرمایا۔

اﷲ تعالی  فرماتا ہے۔ قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا۔                          (پارہ 11 سورہ یونس آیت 58)

ترجمہ:۔ تم فرمادو کہ اﷲ کے فضل اور اس کی رحمت ہی پر لازم ہے کہ خوشیاں مناؤ۔

اور فرماتا ہے۔وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ۔                                                                      (پارہ13 سورہ ابراھیم آیت 5)

ترجمہ:۔ انہیں اﷲ کے دن یاد دلاؤ۔

اور فرماتا ہے۔ وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۔                                                                 (پارہ 30 سور الضحیٰ آیت 11)

ترجمہ:۔ اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔

ان تینوں آیتوں میں حکم فرماتا ہے کہ اﷲ کے فضل اور اس کی رحمت پرشادیاں مناؤ، لوگوں کو اﷲ کے دن یاد دلاؤ، اﷲ کی نعمت کا خُوب چرچا کرو۔ اﷲ کا کون سا فضل و رحمت، کون سی نعمت اس حبیب کریم علیہ وعلٰی آلہ افضل الصلوۃ والتسلیم کی ولادت سے زائد ہے کہ تمام نعمتیں تمام رحمتیں تمام برکتیں اسی کے صدقے میں عطا ہوئیں۔اﷲ کا کون سا دن اس نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ظہور پر نور کے دن سے بڑا ہے، تو بلاشبہہ قرآن کریم ہمیں حکم دیتا ہے کہ ولادتِ اقدس پر خوشی کرو۔ مسلمانوں کے سامنے اُسی کا چرچا خوب زور شور سے کرو، اسی کا نام مجلس میلاد ہے۔

(فتاوی رضویہ ج29 ص249،250)

اعلی حضرت علیہ الرحمہ ایک جگہ یوں نقل کرتے ہیں۔

مجلس میلاد مبارک کہ روایات صحیحہ سے ہو اور اشعار کہ پڑھے جائیں مطابق شرع مطہر ہوں اور الحان سے پڑھنے والے مرد  غیر  امرد  ہوں، مسجد میں بھی جائز ہے کہ مساجد  ذکر الہٰی کے لئے بنیں اور نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ذکر بھی ذکر الہٰی ہے، حدیث میں ہے رب عز وجل نے کریمہ ورفعنا لک ذکرک كے نزول کے بعد کہ ہم نے بلند کیا تمھارے لئے تمھارا ذکر ، جبریل امین علیہ الصلوٰۃ والسلام کو خدمت اقدس حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں بھیج کر ارشاد فرمایا اتدری کیف رفعت لک ذکرک جانتے  ہو  میں نے تمھارا  ذکر  تمھارے  لئے کیونکر بلند فرمایا؟حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے عرض کی  تو خوب جانتاہے ۔ فرمایا  جعلتک ذکر امن ذکری فمن ذکرک فقد ذکرنیمیں تمھیں اپنے ذکر میں سے ایک ذکر بنایا تو جو نے تمھارا ذکر کیا اس نے میرا ذکر کیا۔                             (فتاوی رضویہ ج8ص123)

فتاوی رضویہ میں ہے۔

لاجرم مجلس میلاد مبارک میں تلاوت قرآن مجید ہمشہ سے معمول علمائے کرام و بلاد اسلام ہے۔

 امام جلال الملۃ والدین سیوطی رحمۃ اللہ تعالٰی نے اپنے فتاوٰی میں فرماتے ہیں  اصل المولد الذی ھو اجتماع الناس و قرأۃ ماتیسر من القراٰن وروایۃ الاخبار الواردۃ فی مبدأ امر النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ماوقع فیہ من الاٰیات الخ۔

میلاد شریف کی اصل لوگوں کا مجمع ہونا، قرآن مجید کا تلاوت کیا جانا، اور ان آیات واحادیث و روایات کو بیان کرنا ہے جو آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی شان میں وارد ہوئی ہیں الخ۔

امام حافظ ابن حجر عسقلانی استخراج اصل عمل مولد مبارک میں فرماتے ہیں  والشکر ﷲ تعالٰی یحصل بانواع العبادۃ کالسجود والصیام والصدقۃ والتلاوۃ وای نعمۃ اعظم من النعمۃ ببروز ھذا النبی الکریم نبی الرحمۃ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی ذٰلک الیوم۔

اللہ تعالٰی کا شکر کئی قسم کی عبادات مثلا صیام ، سجود ، تلاوت، صدقہ خیرات وغیرہ کے ذریعے ادا ہوجاتاہے اور نبی کریم جو رحمت والے نبی ہیں ان کے ظہور سے بڑی نعمت اور کون سی ہوسکتی ہے۔

سیرت علامہ شامی میں ہے۔

 عمل المولد الذی استحسناہ فانہ لیس فیہ شیئ سوی قرأۃ القراٰن واطعام الطعام وذٰلک خیر وبروقربۃ۔

میلاد شریف منانا کہ جس کو ہم نے مستحسن قرار دیا ہے اس میں قرآن مجید کی تلاوت (ذکر خدا وذکر رسول) اور کھانا کھلانے کے اہتمام کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ اور یہ کام تو کار خیر ہے اورنیکی وقربت الٰہی کا ذیعہ ہے۔ (فتاوی رضویہ ج23 ص119)

فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ یوں رقمطراز ہیں۔

مجلس میلاد مبارک ذکر شریف سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہے اور حضور کا ذکر اللہ عزوجل کا ذکر، اور ذکر الہٰی سے بلاوجہ شرعی منع کرنا شیطان کا کام ہے اور ذکر شریف سے معاذاللہ حضور کا ہتک حرمت ہونا قائل کا محض کذب وافتراء ہے، ہاں بعض روایات موضوعہ واشعار نامشروعہ سے ایساہو تو اس سے مجلس شریف بری نہ ہوجائے گی،جیسے بہت لوگ نماز میں تعدیل ارکان نہیں کرتے اور یہ حرام ہے۔مگر اس سے خود نمازی بُری نہ ہوجائے گی، تشریف آوری حضور کے اختیارہے اور قیام تعظیمی ذکر قدوم شریف کے لئے ہے اور اللہ عزوجل فرماتاہے:

وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ اور جو اللہ کے نشانوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے۔                                                                                                    (فتاوی رضویہ ج14 ص668،669)

فتاوی رضویہ کا یہ صفحہ بھی ملاحظہ ہو۔

درمجالس مولد شریف کہ از سورۂ والضحی تا آخر می خوانند البتہ بعد ختم ہر سورۃ تکبیر می گویند راقم شریک مجالس متبرک بودہ ایں امررامشاہدہ کردم ہم درمکہ معظمہ وہم درمدینہ منورہ وہم درجدہ۔

میلاد شریف کی محفلوں میں سورۂ والضحی سے آخر قرآن تک پڑھتے ہیں ہر سورۃ ختم کرنے کے بعد تکبیر کہتے ہیں، راقم نے ان متبرک محفلوں میں شریک ہوکر اس امر کامشاہدہ کیا ہے  مکہ معظمہ میں بھی، مدینہ منورہ میں بھی اور جدہ میں بھی۔

(فتاوی رضویہ ج8 ص621)

اعلی حضرت علیہ الرحمۃ نے 12 ربیع الاول کو میلاد کی مجلس پڑھی۔

جیساکہ فتاوی رضویہ میں ہے۔ فقیر ۱۲ربیع الاول شریف کی مجلس مبارک پڑھ کر شام سے سخت علیل ہو اکہ ایسا مرض کبھی نہ ہوا تھا، میں نے وصیت نامہ لکھوادیا، بارے بحمدہٖ تعالٰی مولٰی عزوجل نے شفا بخشی ولہ الحمد۔ (فتاوی رضویہ ج15ص513)

محمد شعیب

رکن دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیر شریف

Date.17.11.2018۔

شیئر کریں:
ماخذ: آف لائن تحریری ریکارڈ