عام تلاش:

میلاد النبی ﷺ منانے کا طریقہ / میلاد شریف منانا

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اندر ایں مسئلہ کہ میلاد النبیﷺ منانے کا بہتر طریقہ کیا ہے؟ بینوا و تؤجروا۔

Aug 15, 2026 24 views
شیئر کریں:

جواب

الجواب بعون الملک الوھاب

                                     بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیا

(1)۔ جشن آمد مصطفیﷺ منانے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ اس موقع پر اجتماعات منعقد کرکے ان میں علمائے حق اہلسنت و جماعت کا بیان ہو اور لوگوں میں سرکار دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات، سیرت طیبہ اور عشق و محبت کو عام کیا جائے اور فری دینی تربیتی لٹریچر تقسیم کیا جائے تاکہ مسلمان عشق مصطفیﷺ سینوں میں سجاکر سیرت طیبہ پر عمل پیرا ہوجائیں اور دارین کی سعادتوں سے ہمکنار ہوں اور اقوام عالم پر اپنی برتری ظاہر کرنے میں کامیاب ہو سکیں۔

(2)۔  ہر روپیہ خرچ کرتے وقت یہ ضرور سوچا جائے کہ یہ رب تعالی کی امانت ہے وہاں خرچ کیا جائے جہاں زیادہ سے زیادہ دین کا فائدہ ہو، نئی نسل کی دینی حوالے سے تربیت ہو، عشق رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم، ناموس رسالت کے تحفظ اور سیرت طیبہ پر عمل پیرا ہونے کے جذبات پیدا ہوں۔

(3)۔ سرکاردوعالمﷺ کی ذات  پر کثرت سے درود شریف پڑھنے کا بندوبست کیا جائے۔

(4)۔اس موقع پر امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غرباء و مساکین کو یاد رکھا جائے اور ان کی ضروریات کا خیال رکھ کر آمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقصد کو فروغ دیا جائے۔

(5)۔ سجاوٹ میں اسلام کے بنیادی اصول میانہ روی کو اپنایا جائے البتہ مناسب انداز میں سجاوٹ کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ یہ باعث اجروثواب ہے۔ البتہ صدقہ خیرات اور کھانا کھلانے کی طرف خصوصی توجہ دی جائے۔

(6)۔ سجاوٹ اور آرائش میں مشغول ہوکر فریضہ نماز کو ترک نہ کیا جائے بلکہ اسلام کے اس اہم ستون کے قیام کی طرف زیادہ توجہ کی کی ضرورت ہے۔

(7)۔  جشن میلاد میں سجاوٹ و آرائش پر خرچ کی جانے والی رقم میں سے کچھ پس انداز کرکے مدارس اہل سنت و جماعت کی ترقی میں حصہ ڈالا جائے۔

(8)۔ آداب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم بارگاہ میں گلہائے عقیدت پیش کرنے کا اہتمام کیا جائے۔  اچھے علماء، شعراء مثلا اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ اور دیگر مستندعشاق  کا کلام پیش کیا جائے اور گانے کی طرز پر نعت خوانی سے اجتناب کیا جائے، تاکہ خیالات میں بگاڑ پیدا نہ ہو۔

(9)۔عورتیں غیر محرم مردوں کا جلوس دیکھنے اور ان سے خلط ملط ہونے سے اجتناب کریں  بلکہ عورتیں الگ محافل میلاد منعقد کریں اور اپنی آواز کو پست رکھیں تاکہ نامحرم مردوں تک ان کی آواز نہ پہنچے کیونکہ المراۃ عورۃ کہ عورت پوشیدہ رکھنے کی چیز

 ہے۔  لہذا ہر حال میں پردے کا اہتمام کریں۔

(10)۔ نیت صالحہ سے جشن میلاد کا جلوس نکالنے میں کوئی حرج نہیں البتہ غیر شرعی حرکات سے پاک رکھنے کی کوشش کی جائے تاکہ اس کا تقدس پامال نہ ہو۔

(11)۔جلوس کے شرکاء ایسے نعروں سے پرہیز کریں جس سے شر اور فساد پھیلنے کا خدشہ ہو۔

(12)۔شرکاء جلوس عام راستوں کو بند نہ کریں تاکہ راہ گیروں کے لئے رکاوٹ نہ ہو، تاکہ نفرت کی بجائے زیادہ سے زیادہ لوگوں کا اس طرف میلان ہو۔

(13)۔ موجودہ حالات کے تناظر میں سیکورٹی خدشات کے پیش نظر چھوٹی گلی کوچوں کی بجائے مرکزی جلوس میں شرکت کی جائے اور مرکزی جلسہ گاہ میں شرکت کی جائے تاکہ مناسب سکورٹی کا بندوبست ہوسکے اور ہر قسم کے خطرات سے عشاقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم محفوظ رہیں۔

ھذا ماعندنا واللہ اعلم بالصواب                                  

     شیر محمد خان

مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف

ضلع سرگودھا

شیئر کریں:
ماخذ: آف لائن تحریری ریکارڈ