عام تلاش:

قبر کے سامنے نماز پڑھنا | قبرستان میں نماز پڑھنا

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اندر ایں مسئلہ کہ قبر سامنے ہو تو نماز جنازہ پڑھنا کیسا ہے  ؟  اور کیا قبر سامنے ہو  تو نماز جنازہ پڑھنے والے مشرک ہوں گے اور جنہوں نے جنازہ پڑھا ان کے نکاح ٹوٹ گئے اور جو کنوارے تھے اب نکاح نہیں کر سکتے ایسا کہنا کیسا ہےبینوا تؤجروا۔

Oct 20, 2026 4 views
شیئر کریں:

جواب

الجواب بعون الملک الوھاب

  بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیا

اگر قبرستان  میں  خالی جگہ  یا جنازہ گاہ میں نماز جنازہ  ادا کی جارہی ہو اور سامنے قبریں نہ  ہوں یا سامنے قبریں تو ہوں،لیکن درمیان میں کوئی چیز  حائل دیوار وغیرہ ہو تو  وہاں بلاکراہت نماز  جائز ہے اور اگر قبر سامنے ہو، درمیان میں کوئی حائل بھی نہ ہو  تو ایسی صورت میں نماز  جنازہ  مکروہ ہوگی۔

اور نبی کریم ﷺ سے بعض قبور پر  عذر و مجبوری کی حالت میں  نماز جنازہ پڑھنا بھی  ثابت ہے جیسے مسجد کی خادمہ بوڑھی عورت کا جنازہ پڑھنا  اور اسی طر ح ایک اور صحابی کی نماز جنازہ قبر کے پاس پڑھنا بھی ثابت ہے۔  لہذا اس عمل کو شرکیہ یا مشرکانہ کہنا درست نہیں اور نکاح بھی سب کے قائم ہیں اورجن  نوجوانوں کے نکاح نہیں ہوئے ابھی تک وہ بھی نکاح کر سکتے ہیں۔  حکم شرعی کو صحیح نہ جاننے  اور صحیح بیان نہ کرنے والے اپنے انجام کی فکر کریں۔دلائل ملاحظہ فرمائیں۔  حدیث پاک میں ہے۔عَنْ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَجْلِسُوا عَلَى الْقُبُورِ، وَلَا تُصَلُّوا إِلَيْهَا ۔

(مسلم، رقم الحدیث 972، جلد2، صفحہ 268، ترمذی، ابودود، مسند ابی یعلی، صحیح ابن خزیمہ، صحیح ابن حبا، المستدرک وغیرہ)

روایت ہے حضرت مرثدغنوی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ قبروں پر نہ بیٹھو اور نہ ان کی طرف نماز پڑھو ۔

اسی کے تحت مراۃ المناجیح میں ہے۔  اس طرح کے قبر نمازی کے سامنے بغیر آڑ ہو یہ حرام ہے اور اگر قبر دائیں بائیں یا پیچھے ہو یا سامنے ہی ہو مگر نمازی اور اس کے درمیان دیوار وغیرہ کی آڑ ہو تو بلا کراہت نماز جائز ہے بزرگوں کے مزار کے پاس برکت کے لیے مسجدیں بنانا اور ان مسجدوں میں برکت کے لیے نمازیں پڑھنا سنت انبیاء و سنت صحابہ ہے چنانچہ رب تعالی اصحاب کہف کے بارے میں فرماتا ہے لنتخذن علیھم مسجدا۔ یعنی مسلمانوں نے مشورہ کیا کہ ہم ان کے غار پر مسجد بنائیں گے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی قبر انور کے ارد گرد مسجد نبوی واقع ہے جہاں سجدے کرنے کی ہر مومن کو تمنا ہے یونہی ہر بزرگ کے مزار کے پاس مسجدیں بنی ہیں۔)مراۃ المناجیح، جلد2، صفحہ 477(

ملا علی قاری علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں۔ (وَلَا تُصَلُّوا) أَيْ: مُسْتَقْبِلِينَ. (إِلَيْهَا) لِمَا فِيهِ مِنَ التَّعْظِيمِ الْبَالِغِ، لِأَنَّهُ مِنْ مَرْتَبَةِ الْمَعْبُودِ فَجَمَعَ بَيْنَ الِاسْتِحْقَاقِ الْعَظِيمِ وَالتَّعْظِيمِ الْبَلِيغِ قَالَهُ الطِّيبِيُّ، وَلَوْ كَانَ هَذَا التَّعْظِيمُ حَقِيقَةً لِلْقَبْرِ أَوْ لِصَاحِبِهِ لَكَفَرَ الْمُعَظِّمُ، فَالتَّشَبُّهُ بِهِ مَكْرُوهٌ، وَيَنْبَغِي أَنْ تَكُونَ كَرَاهَةَ تَحْرِيمٍ ۔(مرقاۃ، جلد3، صفحہ 1217)

فیض القدیر میں ہے۔ (ولا تصلوا إليها) أي مستقبلين إليها لما فيه من التعظيم البالغ لأنه من مرتبة المعبود فجمع بين النهي عن الاستخفاف بالتعظيم والتعظيم البليغ قال ابن حجر: وذلك يتناول الصلاة على القبر أو إليه أو بين قبرين ۔۔(فیض القدیر، جلد6، صفحہ 390)

غنیۃ المستملی میں ہے۔ویکرہ ان تکون قبلۃ المسجد الی المخرج او الی الحمام او الی القبر لان فیہ ترک تعظیم المسجد وفی الخلاصۃ ھذا اذا لم یکن بین یدی المصلی وبین ھذا الموضع حائل کالحائط وان کان حائطاً لایکرہ۔ (غنیةالمستملی:مکروھات الصلوٰۃ،ص:353)

حبیب الفتاوی میں ہے۔ قبرستان میں قبر کے اوپر یا قبر کے سامنے ہوتو نماز پڑھنا منع مکروہ ہے۔(حبیب الفتاوی، جلد1، صفحہ 550)

اور نبی کریم ﷺ سے بعض قبور پر  عذر و مجبوری کی حالت میں  نماز جنازہ پڑھنا بھی  ثابت ہے جیسے مسجد کی خادمہ بوڑھی عورت کا جنازہ پڑھنا  اور اسی طر ح ایک اور صحابی کی نماز جنازہ قبر کے پاس پڑھنا بھی ثابت ہے۔

 عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَبْرٍ بَعْدَمَا دُفِنَ، فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا۔)مسلم، رقم الحدیث 954، جلد2، صفحہ 658()بخاری شریف و مسلم ابن ماجہ وغیرہ میں بوڑھی عورت کی قبر پر نماز جنازہ کی روایت مختلف الفاظ کے ساتھ موجود ہے(

شعبی روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دفن کے بعد قبر پر نماز جنازہ پڑھی اور چار تکبیریں کہیں۔

بخاری شریف میں ہے۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ امْرَأَةً أَوْ رَجُلًا كَانَتْ تَقُمُّ المَسْجِدَ وَلاَ أُرَاهُ إِلَّا امْرَأَةً فَذَكَرَ حَدِيثَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى عَلَى قَبْرِهَا۔)بخاری شریف، رقم الحدیث460، جلد1، صفحہ99(

 ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے  روایت ہے کہ ایک عورت یا مرد مسجد میں جھاڑو دیا کرتا تھا۔ ابورافع نے کہا، میرا خیال ہے کہ وہ عورت ہی تھی۔ پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث نقل کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قبر پر نماز پڑھی۔

ھذا ماعندنا واللہ اعلم بالصواب                                  

شیر محمد خان مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف  
                                                                                محمد شعیب رکن دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف

تاریخ:2023۔12۔19

شیئر کریں:
ماخذ: آف لائن تحریری ریکارڈ