سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اندر ایں مسئلہ کہ میت کو قبرستان لے جاتے وقت سر کس طرف رکھنا چاہیے؟
جواب
الجواب بعون الملک الوھاب
بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیا
میت کو قبرستان لے جاتے وقت میت کا سر قبرستان کی طرف ہونا چاہیے کیونکہ ارواح مومنین نئے آنے والے مسلمان بھائی کا استقبال کرنے آتی ہیں اگر اس طرح میت کے قدم قبلہ رخ ہو گئے تو گناہ نہ ہوگا کیونکہ صحابہ کرام بھی میت کا سر قبرستان کی طرف رکھتے تھے۔ نیز فقہائے کرام نے وضاحت کی ہے کہ میت کو نہلاتے وقت اس کے پاؤں قبلہ رخ ہوجائیں تو یہ بھی غسل دینے کا طریقہ ہے اس طرح اس کے پاؤں کا رخ قبلہ کی طرف رہے گا البتہ بہتر یہ ہے کہ ایسا طریقہ اختیار کیا جائے کہ اس کاسر بھی قبر ستان کی طرف رہے اور پاؤں کو بھی تھوڑا بہت قبلہ سے پھیر لیا جائے تو اس طرح دونوں آداب پر عمل ہوجائے گا بہرحال بدائع الصنائع، البحر الرائق، تبیین الحقائق، درر الحکام، فتاویٰ عالمگیری میں ہے۔ والفاظ من العالمکیری وَفِي حَالَةِ الْمَشْيِ بِالْجِنَازَةِ يُقَدَّمُ الرَّأْسُ، كَذَا فِي الْمُضْمَرَاتِ۔ (فتاوی عالمگیری ج1ص162)
فتاویٰ رضویہ میں اعلی حضرت علیہ الرحمہ سے سوال یوں ہوا کہ جنازہ لے چلیں تو سرہانا آگے کریں یا پائنتی؟ ایک شخص کہتا ہے کہ پائنتی آگے کرنے کا حکم ہے میں نے علمائے دین سے پوچھ لیا ہے۔اس کے جواب میں آپ علیہ الرحمہ نے تحریر فرمایا۔
اس شخص نے محض غلط کہا، جنازہ لے چلنے میں سرہانے آگے کرنے کا حکم ہے۔ (فتاوی رضویہ ج9 ص 135)
نیز نوریہ میں اس کی مکمل بحث موجود ہے۔
ھذا ماعندی واللہ اعلم بالصواب
شیر محمد خان
مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف
ضلع سرگودھا
تاریخ:2024۔9۔22