عام تلاش:

میت کے گھر سے کھانا کھانے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اندر ایں مسئلہ کہ   میت کے گھر کا کھانا اور قل کے موقع پر کھانا کی شرعی حیثیت  کیا ہے؟ بینوا تؤجروا۔

Sep 26, 2026 40 views
شیئر کریں:

جواب

الجواب بعون الملک الوھاب

بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیا

جس گھر میں فوتگی ہوئی ہو سب سے پہلا حکم تو یہ کہ  میت کے دیگر رشتہ دار یا اہل علاقہ ان کے لئے کھانا تیار کر کے لے جائیں اور ان کو کھانا کھلائیں کیونکہ ان پر ایسا غم طاری ہوا ہے جو ان کو کھانا تیارکرنے  سے روکے رکھے گا اس لئے مسلمان  اس بات پر خصوصی توجہ دیں کہ میت کے گھر سے  کھانا کھانے کی بجائے میت کے گھر کھانا بنا کر بھیجیں اور سنت کو فروغ دیں۔

میت کے گھر میں جو کھانا تیار ہوتا ہے یا تو بطور دعوت ہوتا ہے یا بطور ایصال ثواب کے ہوتا ہے ۔ جو کھانا بطور دعوت پکایا جائے وہ ناجائز ہے اور جو بطور ایصال ثواب کے تیار کیا جائے وہ جائز ہے۔

بسا اوقات میت کے گھر والوں کا قرض لینے پر مجبور ہوجانا اور برادی کے  امراء کا مجبور کرنا کہ ضرور کچھ پکائیں ایسا کھانا پکانا منع ہے۔

میت کے گھر والوں کے لئے کھانا تیار کر کے بھیجنا مستحب ہے۔

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: لَمَّا جَاءَ نَعْيُ جَعْفَرٍ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اصْنَعُوا لِأَهْلِ جَعْفَرٍ طَعَامًا، فَإِنَّهُ قَدْ جَاءَهُمْ مَا يَشْغَلُهُمْ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ۔

(ترمذی، رقم الحدیث 998، جلد3، صفحہ 314۔ سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث 1610، مصنف عبدالرزاق، مسند احمد، مسند ابی یعلی  وغیرہ کتب حدیث میں ہے)

عبد اللہ بن جعفر فرماتے ہیں کہ جب ہمیں جعفر رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر  پہنچی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اہل جعفر کے لئے کھانا تیار کرو کیونکہ ان کو ایسا   معاملہ در پیش ہوا ہے جو ان کو کھانا بنانے سے روکے رکھے گا۔

مرقاۃ المفاتیح میں ہے۔ وَالْمَعْنَى جَاءَهُمْ مَا يَمْنَعُهُمْ مِنَ الْحُزْنِ عَنْ تَهْيِئَةِ الطَّعَامِ لِأَنْفُسِهِمْ، فَيَحْصُلُ لَهُمُ الضَّرَرُ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ. قَالَ الطِّيبِيُّ: دَلَّ عَلَى أَنَّهُ يُسْتَحَبُّ لِلْأَقَارِبِ وَالْجِيرَانِ تَهْيِئَةُ طَعَامٍ لِأَهْلِ الْمَيِّتِ اهـ. وَالْمُرَادُ طَعَامٌ يُشْبِعُهُمْ يَوْمَهُمْ وَلَيْلَتَهُمْ ۔ (مرقاۃ، جلد3، صفحہ 1241)

مراۃ المناجیح میں ہے۔آپ نے کھانا پکانے کا حکم اپنے اہل بیت کو دیا۔اس کھانےکو جو اہل میت کے لیئے پکایا جائے عربی میں رُفَعَہ کہتے ہیں،اردو میں بھتی،پنجابی،میں کوڑا وٹہ۔یہ کھانا بھیجنا سنت ہے بلکہ چاہیئے کہ خودکھانا پکانے والا میت کے گھر کھانا لے جائے اور خود بھی ان کے ہمراہ ہی کھائے،انہیں ساتھ کھانے پر مجبورکرے۔صرف پہلے دن کھانا بھیجا جائے جس دن فوت ہویا فوت کی خبر آئے بعد میں نہ بھیجے،تین دن کا جو رواج ہے یہ غلط ہے۔یعنی جعفر کے گھر والے آج غم کی وجہ سے کھانا پکا نہ سکیں گے اگر کوئی کھانا نہ لے گیا تو وہ بھوکے رہیں گے۔اس سے معلوم ہوا کہ یہ کھانا یا وہ لوگ کھائیں جو غم کی وجہ سے پکا نہ سکیں یا باہر کے مہمان جو شرکت دفن کے لیئے آئے ہیں،عام برداری والوں کی دعوت اس وقت ممنوع ہے۔حضرت جریر ابن عبداﷲ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ صحابہ میت کے ہاں دعوت کو نوحہ شمار کرتے تھے۔اسی کو فقہاءمنع فرماتےہیں یعنی تین دن تک تمام محلہ و برادری والوں اورمیت والوں کے لیئے کھانا بھیجنا اور پھرتیسرے دن خود میت کے ہاں برداری کی روٹی ہونا،دھوم دھام سے اسے کھانا یہ دونوں کام سخت منع ہیں خصوصًا جب کہ میت کے یتیم بچےبھی ہوں اور میت کے متروکہ مال سے یہ روٹی کی جائے تو اس کا کھانا اور کھلانا سخت حرام ہے کہ یتیم کا مال کھانا حرام ہے۔غرضکہ اہلِ میت کی رسمی دعوت ممنوع ہے۔ (مراۃ المناجیح، جلد2، صفحہ 961)

فتاوی شامی میں ہے۔ قَالَ فِي الْفَتْحِ وَيُسْتَحَبُّ لِجِيرَانِ أَهْلِ الْمَيِّتِ وَالْأَقْرِبَاءِ الْأَبَاعِدِ تَهْيِئَةُ طَعَامٍ لَهُمْ يُشْبِعُهُمْ يَوْمَهُمْ وَلَيْلَتَهُمْ، لِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «اصْنَعُوا لِآلِ جَعْفَرٍ طَعَامًا فَقَدْ جَاءَهُمْ مَا يَشْغَلُهُمْ» حَسَّنَهُ التِّرْمِذِيُّ وَصَحَّحَهُ الْحَاكِمُ وَلِأَنَّهُ بِرٌّ وَمَعْرُوفٌ، وَيُلِحُّ عَلَيْهِمْ فِي الْأَكْلِ لِأَنَّ الْحُزْنَ يَمْنَعُهُمْ مِنْ ذَلِكَ فَيَضْعُفُونَ. اهـ. مَطْلَبٌ فِي كَرَاهَةِ الضِّيَافَةِ مِنْ أَهْلِ الْمَيِّتِ

وَقَالَ أَيْضًا: وَيُكْرَهُ اتِّخَاذُ الضِّيَافَةِ مِنْ الطَّعَامِ مِنْ أَهْلِ الْمَيِّتِ لِأَنَّهُ شُرِعَ فِي السُّرُورِ لَا فِي الشُّرُورِ، وَهِيَ بِدْعَةٌ مُسْتَقْبَحَةٌ: وَرَوَى الْإِمَامُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ " كُنَّا نَعُدُّ الِاجْتِمَاعَ إلَى أَهْلِ الْمَيِّتِ وَصُنْعَهُمْ الطَّعَامَ مِنْ النِّيَاحَةِ۔۔(فتاوی شامی، جلد2، صفحہ 240)

ترجمہ:۔ کہ اہل میت کے پڑوسیوں اور دور کے رشتہ داروں کے لیے مستحب ہے کہ وہ ان کے لیے اتنا کھانا تیار کرائیں جو رات دن ان کے لیے کافی ہو سکے کیونکہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا اصنعو الال جعفر طعاما فقد جاءهم ما يشغلهم امام ترمذی نے اس کو حسن صحیح قرار دیا ہے اور حاکم نے اسے میچ کہا ہے نیز یہ نیکی اور احسان ہے اور میت کے اہل خانہ کو کھانا پر مجبور کریں کیونکہ غم کی وجہ سے وہ کھا نہیں سکیں گے تو کمزور ہو جائیں گے اور فتح میں یہ بھی ہے کہ میت کے اہل خانہ کی طرف سے ضیافت کا اہتمام کرنا۔ (جیسا زمانہ جاہلیت میں کسی کا کوئی آدمی فوت ہو جاتا اور اس پر نوحہ کرنے کے لیے میت کے اہل خانہ بڑی ضیافت کا اہتمام کرتے تھے ) مکروہ ہے کیونکہ ضیافت خوشی کے موقع پر کی جاتی ہے نہ کہ مصیبت میں اور یہ بدعت قبیحہ ہے امام احمد بن حنبل اور ابن ماجہ صحیح سند کے ساتھ جریر بن عبد اللہ سے روایت فرماتے ہیں کہ ہم اہل میت کے پاس جمع ہونے اور میت کے اہل خانہ کا ان کے لیے کھانا تیار کرنے کو میت پر نوحہ کرنے کا ایک حصہ شمار کرتے تھے۔

جس گھر میں میت ہوجائے ان کے پڑوسیوں اور رشتے داروں کے لیے مستحب اور باعث اجر و ثواب ہے کہ میت کے گھر والوں کے لیے اس دن کے کھانے کا انتظام کریں اور خود ساتھ بیٹھ کر، اصرار کر کے ان کو کھلائیں،اور ضرورت ہو تو تین دن تک کھانا کھلانا بھی جائز ہے، اہلِ میت کو یہ کھانا کھلانا اس وجہ سے نہیں ہوتا کہ میت کے گھر میں یا میت کے گھر والوں کے لیے کھانا پکانا ممنوع ہے، بلکہ اس وجہ سے   ہوتا ہے کہ غم و حزن اور تجہیز و تکفین کی مشغولیت کی وجہ سے ان کو کھانا پکانے کا موقع نہیں ملے گا، لہٰذا اگر میت کے گھر والے خود اپنے لیے اسی دن کھانا بنائیں تو اس کی اجازت ہے۔رسول اللہﷺ کے چچا زاد بھائی حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے موقع پر آپﷺ نے  فرمایا کہ جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا تیار کرو۔

جو کھانا بطور دعوت تیار کیا جائے وہ منع ہے

     اعلیٰ حضرت ایک اور مقام پر سوگ کے دنوں میں دعوت کے بارے میں فرماتے ہیں:”یہ دعوت خود ناجائز و بدعت شنیعہ قبیحہ ہے، امام احمد اپنی مسند اور ابن ماجہ سنن میں بسند صحیح حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی سے راوی:”کنا نعد الإجتماع إلی أھل المیت و صنعۃ الطعام من النیاحۃ۔‘‘ہم گروہ صحابہ اہل میت کے یہاں جمع ہونے اور ان کے کھانا تیار کرنے کو مردے کی نوحہ (کی قسم ) سے شمار کرتے تھے۔

    جس کی حرمت پر متواتر حدیثیں ناطق، امام محقق علی الاطلاق فتح القدیر شرح ہدایہ میں فرماتے ہیں:”یکرہ إتخاذ الضیافۃ من الطعام من أھل المیت لأنہ شرع فی السرور لا فی الشرور و ھی بدعۃ مستقبحۃ“۔اہل میت کی طرف سے کھانے کی ضیافت تیار کرنی منع ہے کہ شرع نے ضیافت خوشی میں رکھی ہے، نہ کہ غمی میں اور یہ بدعت قبیحہ ہے۔‘‘

(فتاوی رضویہ، جلد 9،ص662، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

    ایک اور مقام پر ایصال ثواب کی نیت سے دیے گئے کھانے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: ” اغنیا  بھی  کھا  سکتے  ہیں، سوا  اس کھانے  کے  جو موت میں بطور دعوت کیا جائے، وہ ممنوع و بدعت ہے اور عوام مسلمین کی فاتحہ چہلم، برسی، ششماہی کا کھانا بھی اغنیاء کو مناسب نہیں۔‘‘

              (فتاوی رضویہ، جلد9،ص 610،رضا فاونڈیشن،لاھور)

فتاوی امجدیہ کے حاشیہ میں  یکرہ إتخاذ الضیافۃ من الطعام من أھل المیت کی  تشریح بیان کرتے مفتی شریف  الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ  ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔اس سے مراد یہ ہے کہ جیسے شادی بیاہ کے موقعوں پر دعوتیں ہوتی ہیں اس طرح بلا نیت ایصال ثواب دعوت کرے یا جیسے بعض جگہ دستور ہے کہ میت کے کھانے کو برادری اپنا حق سمجھتی ہے اگر نہ کھلائیں تو عیب لگاتے ہیں یہ ضرور بدعت قبیحہ ہے لیکن میت کے ایصال ثواب کھانا پکوا کر مسلمانوں کو کھلائیں تو اس میں حرج نہیں  یہ کھانا اگر عامہ مسلمین میں سے کسی کا ہے تو اغنیاء کو کھانا منع اور فقراء کو جائز اور اگر بزرگان دین کے ایصال ثواب کے لئے تو غنی فقیر سب کو کھانا جائز بلکہ بہ نیت حصول برکت مستحسن ۔

(حاشیہ فتاوی امجدیہ، جلد1، صفحہ 337)

اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:” طعام تین قسم ہے: ایک وہ کہ عوام ایام موت میں بطور دعوت کرتے ہیں ،یہ ناجائز و ممنوع ہے۔ لأن الدعوۃ إنما شرعت فی السرور لا فی الشرور کما فی فتح القدیر و غیرہ من کتب الصدور۔ اس لیے کہ دعوت  شریعت نے خوشی میں رکھی ہے، غمی میں نہیں، جیسا کہ فتح القدیر وغیرہ کتب اکابر میں ہے۔

اغنیاء کو اس کا کھانا، جائز نہیں۔

    دوسرے وہ طعام کہ اپنے اموات کو ایصال ثواب کے لیے بہ نیت تصدق کیا جاتا ہے، فقراء اس کے لیے احق ہیں، اغنیاء کو نہ چاہیے۔

    تیسرے وہ طعام کہ نذور ارواح طیبہ حضرات انبیاء و اولیاء علیہم الصلوٰۃ و الثناء کیا جاتا ہے اور فقراء و اغنیاء سب کو بطور تبرک دیا جاتا ہے، یہ سب کو بلا تکلف رواہےاور وہ ضرور باعث برکت ہے، برکت والوں کی طرف جو چیز نسبت کی جاتی ہے، اس میں برکت آ جاتی ہے، مسلمان اس کھانے کی تعظیم کرتے ہیں اور وہ اس میں مصیب ہیں، ائمہ دین نے بسند صحیح روایت فرمایا کہ ایک مجلس سماع صوفیاء کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں نذر حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک بدرہ زر رکھا ہوا تھا، حالت وجد میں ایک صاحب کا پاؤں اس سے لگ گیا، فوراً رب العزت جل و علا نے ان کا حال ولایت سلب فرما لیا، نسئل اللہ العفو و العافیۃ۔۔(فتاوی رضویہ، جلد9، ص 614،رضا فاونڈیشن، لاھور)

    ایک اور مقام پرآپ فرماتے ہیں:”بغیر دعوت کے جمعراتوں، چالیسویں، چھ ماہی، برسی میں جو بھاجی کی طرح اغنیاء کو بانٹا جاتا ہے، وہ بھی اگرچہ بے معنی ہے، مگر اس کا کھانا منع نہیں، بہتر یہ ہے کہ غنی نہ کھائے اور فقیر کو کچھ مضائقہ نہیں کہ وہی اس کے مستحق ہیں۔‘

 (فتاوی رضویہ، جلد 9،ص673 ،رضا فاؤنڈیشن ،لاھور)۔

البتہ علامہ ابن قدامہ حنبلی نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ دور کے مہمان کے لئے کھانا تیار  کر سکتے ہیں۔

المغنی میں ہے۔ فَأَمَّا صُنْعُ أَهْلِ الْمَيِّتِ طَعَامًا لِلنَّاسِ، فَمَكْرُوهٌ وَإِنْ دَعَتْ الْحَاجَةُ إلَى ذَلِكَ جَازَ؛ فَإِنَّهُ رُبَّمَا جَاءَهُمْ مَنْ يَحْضُرُ مَيِّتَهُمْ مِنْ الْقُرَى وَالْأَمَاكِنِ الْبَعِيدَةِ، وَيَبِيتُ عِنْدَهُمْ، وَلَا يُمْكِنُهُمْ إلَّا أَنْ يُضَيِّفُوهُ۔ (المغنی ، جلد2، صفحہ410)

پس میت کے اہل خانہ کا دوسرے لوگوں کی ضیافت کے لئے کھانا تیار کرنا مکروہ ہے۔۔۔۔۔ جب اس کے بغیر چارہ کار نہ ہو تو جائز ہے کیونکہ بسا اوقات لوگ دور دارز مقامات اور دیہاتوں سے میت کی خبر سن کر حاضر ہوتے ہیں ۔ اور ان کے پاس رات گزارتے ہیں مگر یہ ان کو کھانا کھلانے کی ضروت پڑتی ہے۔

میت کے ترکہ سے کھانا بنانا جس میں سب ورثاء کا حق ہوتا ہے اس  کھانا کا حکم

عموماًرواج یہی ہے کہ کسی شخص کے فوت ہونے کے بعد چالیسویں تک کا  کھانا اور مہمان داری وغیرہ کے مکمل اخراجات میت کے ترکہ میں سے  ادا کیے جاتے ہیں اور ورثاء میں عاقل، بالغ، مجنون اور نابالغ سب شامل ہوتے ہیں اوربعض اوقات سب ورثاء کی اتنے زیادہ خرچ پر رضامندی بھی نہیں ہوتی۔جبکہ میت کے ترکہ میں سے ورثاء کی اجازت کے بغیر صرف کفن دفن بقدر سنت، تجہیز و تکفین، قرض کی ادائیگی اور اس کے بعد بچنے والے ترکہ کے تہائی تک جائز وصیت کے نفاذ کی اجازت ہے، اس کے علاوہ باقی اخراجات کے لیے میت کے عاقل بالغ ورثاء کے حصوں میں سے خرچ کرنے کے لیے ان کی اجازت ہونا ضروری ہے، اگر بعض یاکل ورثاء عاقل بالغ نہ ہوں ، یعنی مجنون یا نا بالغ ہوں ،وہ اگر اجازت دے  دیں، تو بھی ان کے حصے سے خرچ کرنا، جائز نہیں اور جو عاقل بالغ ہوں، اگر ان کی اجازت ہو، تو جتنی اجازت ہے، اس مقدار میں اور اس خاص مد میں استعمال کر سکتے ہیں۔ اجازت سے زیادہ مقدار میں یا باقی کسی اور مد میں استعمال کرنا، جائز نہیں اور اگر باقی ورثاء کی اجازت کے بغیر کسی وارث نے اوپر ذکر کی گئی مدات کے علاوہ کسی کام مثلاً:ختم درود، کھانا کھلانے، مہمان داری وغیرہ پر رقم خرچ کی، تو یہ اسی کے حصے میں سے شمار کیا جائے گا، وہ دوسروں سے مطالبہ نہیں کر سکتا۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:”غالباً ورثہ میں کوئی یتیم یا اور بچہ نابالغ ہوتا ہے یا اور ورثہ موجود نہیں ہوتے، نہ ان سے اس کا اذن لیا جاتا ہے، جب تو یہ امر سخت حرام ِشدیدپر متضمن ہوتا ہے۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے: ﴿ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَاۡکُلُوۡنَ اَمْوٰلَ الْیَتٰمٰی ظُلْمًا اِنَّمَا یَاۡکُلُوۡنَ فِیۡ بُطُوۡنِہِمْ نَارًا ؕوَسَیَصْلَوْنَ سَعِیۡرًا﴾ ترجمہ: بے شک جو لوگ یتیموں کے مال نا حق کھاتے ہیں، بلا شبہہ وہ اپنے پیٹوں میں انگارے بھرتے ہیں اور قریب ہے کہ جہنم کے گہراؤ میں جائیں گے۔

    مالِ غیر میں بے اذن غیر تصرف خود نا جائز ہے۔ قال تعالی﴿ لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمْوٰلَکُمۡ بَیۡنَکُمۡ بِالْبٰطِلِ ﴾ ترجمہ: اپنے مال آپس میں نا حق نہ کھاؤ۔خصوصاً نا بالغ کا مال ضائع کرناجس کا اختیار نہ خود اسے ہے، نہ اس کے باپ، نہ اس کے وصی کو،لأن الولایۃ للنظر لا للضرر علی الخصوص (اس لیے کہ ولایت فائدے  کے لیے ہے، نہ کہ ضرر کے لیے) اور اگر ان میں کوئی یتیم ہوا، تو آفت سخت تر ہے، و العیاذ باللہ رب العالمین۔ ہاں اگر محتاجوں کے دینے کو کھانا پکوائیں ،تو حرج نہیں، بلکہ خوب ہے، بشرطیکہ یہ کوئی عاقل بالغ اپنے مال خاص سے کرےیا ترکہ سے کریں، تو سب وارث موجود و بالغ و راضی ہوں۔

    خانیہ و بزازیہ و تتارخانیہ و ہندیہ میں ہے:”إن اتخذ طعاما للفقراء کان حسنا إذا کانت الورثۃ بالغین و إن کان فی الورثۃ صغیر لم یتخذوا ذٰلک من الترکۃ“ ترجمہ: اگر فقراء کے لیے کھانا پکوائے ،تو اچھا ہے، جبکہ سب ورثہ بالغ ہوں اور اگر کوئی وارث نا بالغ ہو، تو یہ ترکہ سے نہ کریں۔

    نیز فتاوی قاضی خان میں ہے:”إن اتخذ ولی المیت طعاما للفقراء کان حسنا إلا أن یکون فی الورثۃ صغیر فلا یتخذ ذٰلک من الترکۃ“ترجمہ: ولی میت اگر فقراء کے لیے کھانا تیار کرائے ،تو اچھا ہے، لیکن ورثہ میں اگر کوئی نا بالغ ہو ،تو ترکہ سے یہ کام نہ کرے۔‘‘

 (فتاوی رضویہ، جلد 9 ،ص 664،665 ،رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ  ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:”بقدر سنت غسل و کفن و دفن میں جس قدر صرف ہوتی ہے ، بقیہ ورثاء صرف اسی قدر کے حصہ رسد ذمہ دار ہو سکتے ہیں، فاتحہ و صدقات و سوم و چہلم میں جو صرف ہوا یا قبر کو پختہ کیایا اور مصارف قدر سنت سے زائد کیے ،وہ سب ذمہ پسر پڑیں گے، باقی وارثوں کو اس سے سروکار نہیں۔ طحطاوی کے حاشیہ میں ہے:”(تتمہ) التجھیز لا یدخل فیہ السبح و الصمدیۃ و الجمع و الموائد لأن ذٰلک لیس من الأمور اللازمۃ ،فالفاعل لذٰلک إن کان من الورثۃ یحسب علیہ من نصیبہ و یکون متبرعاً و کذا إن کان أجنبیا الخ“۔(تتمہ) میت کی تجہیز میں دعا و فاتحہ(سوم، چہلم وغیرہ) لوگوں کو جمع کرنا اور دعوت طعام وغیرہ داخل نہیں ہیں، کیونکہ یہ چیزیں لازمی امور سے نہیں ہیں، چنانچہ ایسا کرنے والا اگر وارثوں میں سے ہے ،تو اس کے حصے میں سے شمار ہو گا اور وہ متبرع ٹھہرے گا، یونہی اجنبی نے ایسا کیا ،تو وہ بھی متبرع قرار پائے گا الخ۔(‘                                                                                 فتاوی رضویہ ،جلد 26 ،ص 288 ،رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

ایصال ثواب کے لئے پکائے گئے کھانا کا حکم ۔

بخاری و مسلم شریف میں ہے۔ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا، وَأَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ، فَهَلْ لَهَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا؟ قَالَ نَعَمْ۔۔

  (بخاری، رقم الحدیث 1388، جلد2، صفحہ102۔ مسلم، ابوداود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، مسند احمد وغیرہ کتب حدیث میں ہے ۔ (اسنادہ علی شرط البخاری، حکم الالبانی،  صحیح )

ترجمہ:۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ ایک شخص نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا یارسول اللہﷺ میری والدہ اچانک فوت ہو گئی ہیں جس کی وجہ سے وصیت نہیں کر سکیں میرا گمان ہے کہ اگر وہ بولتیں تو صدقہ کرتیں اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا انہیں اجر ملے گا؟ آپ نے فرمایا ہاں۔

مسلم شریف میں ہے۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ " إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ: إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ۔

(مسلم، رقم الحدیث 1631، جلد3، صفحہ1255۔اسی طرح ابو داود، مسند ااحمد، السنن الکبری للنسائی، مسند ابی یعلی الموصلی وغیرہ کتب حدیث میں ہے ۔ (اسنادہ صحیح)

ترجمہ:۔ روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ  وسلم نے کہ جب آدمی مرجاتا ہے تو اس کے عمل بھی ختم ہوجاتے ہیں سواءتین اعمال کے ایک دائمی خیرات یا وہ علم جس سے نفع پہنچتا رہے یا وہ نیک بچہ جو اس کے لیئے دعا خیر کرتا رہے ۔

فقہاء کے نزدیک ایصال ثواب جائز ہے

درمختار میں ہے۔ الْأَصْلُ أَنَّ كُلَّ مَنْ أَتَى بِعِبَادَةٍ مَا لَهُ جَعْلُ ثَوَابِهَا لِغَيْرِهِ۔

اسی کے تحت فتاوی شامی میں ہے۔ (قَوْلُهُ بِعِبَادَةٍ مَا) أَيْ سَوَاءٌ كَانَتْ صَلَاةً أَوْ صَوْمًا أَوْ صَدَقَةً أَوْ قِرَاءَةً أَوْ ذِكْرًا أَوْ طَوَافًا أَوْ حَجًّا أَوْ عُمْرَةً، أَوْ غَيْرَ ذَلِكَ مِنْ زِيَارَةِ قُبُورِ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمْ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ وَالشُّهَدَاءِ وَالْأَوْلِيَاءِ وَالصَّالِحِينَ، وَتَكْفِينِ الْمَوْتَى، وَجَمِيعِ أَنْوَاعِ الْبِرِّ كَمَا فِي الْهِنْدِيَّةِ ط وَقَدَّمْنَا فِي الزَّكَاةِ عَنْ التَّتَارْخَانِيَّة عَنْ الْمُحِيطِ الْأَفْضَلُ لِمَنْ يَتَصَدَّقُ نَفْلًا أَنْ يَنْوِيَ لِجَمِيعِ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ لِأَنَّهَا تَصِلُ إلَيْهِمْ وَلَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ شَيْءٌ۔ ( درمختار مع ردالمحتار، جلد 2، صفحہ595)

فتاوی عالمگیری میں ہے۔ الْأَصْلُ فِي هَذَا الْبَابِ أَنَّ الْإِنْسَانَ لَهُ أَنْ يَجْعَلَ ثَوَابَ عَمَلِهِ لِغَيْرِهِ صَلَاةً كَانَ أَوْ صَوْمًا أَوْ صَدَقَةً أَوْ غَيْرَهَا كَالْحَجِّ وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَالْأَذْكَارِ وَزِيَارَةِ قُبُورِ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمْ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ وَالشُّهَدَاءِ وَالْأَوْلِيَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَتَكْفِينِ الْمَوْتَى وَجَمِيعِ أَنْوَاعِ الْبِرِّ، كَذَا فِي غَايَةِ السُّرُوجِيِّ شَرْحِ الْهِدَايَةِ۔(فتاوی عالمگیری، جلد1، صفحہ257)

البحر الرائق میں ہے۔ وَالْأَصْلُ فِيهِ أَنَّ الْإِنْسَانَ لَهُ أَنْ يَجْعَلَ ثَوَابَ عَمَلِهِ لِغَيْرِهِ صَلَاةً أَوْ صَوْمًا أَوْ صَدَقَةً أَوْ قِرَاءَةَ قُرْآنٍ أَوْ ذِكْرًا أَوْ طَوَافًا أَوْ حَجًّا أَوْ عُمْرَةً أَوْ غَيْرَ ذَلِكَ عِنْدَ أَصْحَابِنَا لِلْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ۔

( البحر الرائق، جلد 3، صفحہ63۔ عمدۃ القاری، مرقاۃ ، ھدایہ، فتح القدیر، تبیین الحقائق،  ۔ بالفاظ متقاربہ ملتقی الابحر، الاختیار لتعلیل المختار، مراقی  میں بھی ہے)

مجمع الانھر میں ہے۔ (وَجَوَّزَهَا) أَيْ الْقِرَاءَةَ عِنْدَ الْقَبْرِ (مُحَمَّدٌ وَبِهِ) أَيْ يَقُولُ مُحَمَّدٌ (أَخْذٌ) لِلْفَتْوَى لِمَا فِيهِ مِنْ النَّفْعِ لِوُرُودِ الْآثَارِ بِقِرَاءَةِ آيَةِ الْكُرْسِيِّ وَسُورَةِ الْإِخْلَاصِ وَالْفَاتِحَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ عِنْدَ الْقُبُورِ وَمَذْهَبُ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ أَنَّ لِلْإِنْسَانِ أَنْ يَجْعَلَ ثَوَابَ عَمَلِهِ لِغَيْرِهِ وَيُصَلِّيَ۔(مجمع الانھر، جلد2، صفحہ552)

فتاوی عزیزی میں ہے۔ اگر فاتحہ بنام بزرگے دادہ شد پس اغنیاء را ہم خوردن از ان جائز است واللہ اعلم ۔ (فتاوی عزیزی ، جلد1، صفحہ50)

وہ کھانا جو کسی میت یا بزرگ کے ایصال ثواب کے لئے پکایا تو اغنیاء کے لئے کھانا جائز ہے۔

فتاوی امجدیہ میں ہے۔ عام  میت کا کھانا صرف فقراء کو کھلائے اور اہل برادری میں کچھ لوگ محتاج ہوں تو انہیں بھی کھلائے اور اپنے رشتہ دار ایسے ہوں توانہیں کھلانا اوروں سے بہتر اور محتاج نہ ہوں انہیں نہ کھلائے بلکہ انہیں کھانا بھی نا چاہئے۔ (فتاوی امجدیہ، جلد1، صفحہ 337)

نیز بخاری اور مسلم کی صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ حضرت سعد بن معاذ نے حضور کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد کے مطابق اپنی والدی کے لیے جو کنواں کھدوایا تھا اس کا نام ہی برام سعد رکھا گیا تھا۔ یعنی سعد کی ماں کا کنواں۔ اگر کسی غیر کا صرف نام لے دینے سے کوئی چیز ناپاک ہوجاتی تو اس کنویں کا پانی بھی ناپاک ہوجاتا۔ اسے پینا، اس سے وضو یا غسل کرنا اور اس سے کپڑے دھونا سب ممنوع قرار پاتا۔ حضور رحمت عالمیان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر سال ایک دنبہ اپنی طرف سے قربانی دیا کرتے اور دوسرا دنبہ امت کی طرف سے۔

کئی لوگ کسی ولی کے نام کی نذر مانتے ہیں۔ کیا اس طرح وہ چیز حرام ہوجاتی ہے یا نہیں۔ تو اس کے متعلق مختصراً عرض ہے کہ نذر کے دو معنی ہیں۔ شرعی اور عرفی۔ نذر شرعی عبادت ہے اور عبادت کسی غیر اللہ کے لیے جائز نہیں۔ اس لیے شرعی معنی میں تو نذر اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے اور اس کے علاوہ کسی اور کی نذر ماننا شرک ہے۔ لیکن عرف عام میں نذر عبادت کے معنی میں استعمال نہیں ہوتی۔ بلکہ نیاز کے معنی میں استعمال ہوتی ہے اور یہ شرک نہیں۔ چنانچہ حضرت شاہ عبد العزیز (رح) اپنے والد بزرگوار حکیم الامت حضرت شاہ ولی اللہ (رح) سے اپنے فتاوی میں یہ عبارت نقل کرتے ہیں۔ وہی عبارت آپ کی خدمت میں بعینہٖ پیش کرنے کی جسارت کرتا ہوں۔ امید ہے یہ گتھی بھی سلجھ جائے گی۔

لیکن حقیقت ایں نذر آنست کہ اہداء ثواب طعام و انفاق و بذل بروح میت کہ امریست مسنون و ازروئے احادیث صحیحہ ثابت است مثل ماورد فی الصحیحین من حال ام سعد وغیرہ ایں نذر مستلزم مے شود پس حال ایں نذر آنست کہ اہداء ثواب ہذا القدر الی روح فلاں۔ وذکر ولی برائے تعین عمل منذو راست نہ برائے مصرف و مصرف ایں نذر نزد ایشاں متوسلان آں ولی مے باشند از اقارب وخدم وہمطریقان وامثال ذالک۔ ہمیں است مقصود نذر کنندگاں بلاشبہ وحکمہ انہ صحیح یجب الوفا ربہ لانہ قربۃ معتبرۃ فی الشرع۔

(فتاویٰ عزیزی جلد اول صفحہ ١٢١ مطبوعہ دیوبند)۔

ترجمہ :۔ اس نذر کی حقیقت یہ ہے کہ اس طعام وغیرہ کا ثواب میت کی روح کو پہنچایا جاتا ہے اور یہ امر مسنون ہے اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ جیسے حضرت سعد کی والدہ کے کنویں کا ذکر صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں موجود ہے۔ اس نذر کا پورا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ پس اس نذر کا حاصل یہ ہے کہ اس طعام وغیرہ کا ثواب فلاں ولی کو پہنچے۔ نذر میں ولی کا ذکر اس لیے نہیں کیا جاتا کہ وہ اس نذر کا مصرف ہے۔ اس کا مصرف تو اس ولی کے قریبی رشتہ دار، خدام درگاہ اور ہم مشرف لوگ ہوتے ہیں۔ ولی کا نام صرف اس عمل کو متعین کرنے کے لیے لیا جاتا ہے۔ نذر کرنے والوں کا بلاشبہ بس یہی مقصد ہوا کرتا ہے اور اس کا حکم یہ ہے کہ ایسی نذر صحیح ہے۔ اور اس کو پورا کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ یہ ایسی طاعت ہے جو شرعاً معتبر ہے۔

حضرت حکیم الامت کے اس ایمان افروز وضاحت کے بعد کسی قسم کا شبہ باقی نہیں رہتا۔ اگرچہ مزید کسی تشریح کی ضرورت نہیں لیکن محض مزید اطمینان کے لیے ایک دو حوالے اور پیش خدمت ہیں۔

حضرت شاہ عبد العزیز (رح) اپنے فتاویٰ عزیزیہ میں فرماتے ہیں :۔

اگر مالیدہ وشیر برائے فاتحہ بزرگے بقصد ایصال ثواب بروح ایشاں پختہ بخوار اند جائز است مضائقہ نیست۔ (فتاویٰ عزیزی جلد اول صفحہ ٥٠ مطبوعہ دیوبند)۔

یعنی اگر مالیدہ اور دودھ کسی بزرگ کی فاتحہ کے لیے ان کی روح کو ثواب پہنچانے کے ارادے سے پکا کر کھلائیں تو کچھ مضائقہ نہیں جائز ہے۔

اسی صفحہ پر حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں :۔

اگر فاتحہ بنام بزرگے دادہ شدپس اغنیاء راہم خوردن جائز است واللہ اعلم۔

یعنی اگر کسی بزرگ کے نام فاتحہ دی گئی تو مالداروں کو بھی اس میں سے کھانا جائز ہے۔

حضرت شاہ صاحب دوسری جگہ لکھتے ہیں :۔

طعامیکہ ثواب آں نیاز حضرت امامین نمایندو برآں فاتحہ وقل و درود خوانند تبرک مے شود و خوردن بسیار خوب است۔(فتاویٰ عزیزی جلد اول صفحہ ٧٨ مطبوعہ دیوبند)

یعنی وہ کھانا جس کا ثواب حسنین کریمین کو پہنچایا جائے اور اس پر فاتحہ، قل شریف اور درود شریف پڑھا جائے وہ تبرک ہوجاتا ہے اور اس کا کھانا بہت اچھا ہے۔

شاہ اسماعیل دہلوی کی یہ عبارت بھی ملاحظہ فرمائیے :۔

پس درخوبی ایں قدر امرا زامور مرسومہ فاتحہ ہاوا اعراس ونذر و نیاز اموات شک و شبہ نیست۔

 (صراط مستقیم ص ٥٥) ۔

اب فاتحہ خوانی کا طریقہ بھی شاہ اسماعیل دہلوی کے الفاظ میں سن لیجئے :۔

اول طالب رابا ید کہ باوضو دوزانو بطور نماز بنشیندو فاتحہ بنام اکابرایں طریق یعنی حضرت خواجہ معین الدین سنجری و حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کا کی وغیرھما خواندہ والتجا بجناب حضرت ایزد پاک بتوسط ایں بزرگان نمایدو بنیاز تمام وزاری بسیار دعائے کشود کار خود کردہ ذکر دو ضربی شروع نماید۔

  (صراط مستقیم ص ١١١ فخر المطابع)۔یہ ساری بحث ضیاء القرآن، جلد2، صفحہ 612، 613 پر بھی موجود ہے۔

یعنی پہلے طالب کو چاہیے کہ وضو کرے اور نماز کے طریقہ پر دو زانو ہر کو بیٹھے اور اس طریقہ کے اکابر یعنی حضرت خواجہ معین الدین سنجری اور حضرت قطب الدین بختیار کا کی وغیرہما کے نام کی فاتحہ پڑھے اور پھر درگاہ الٰہی میں ان بزرگوں کے وسیلہ سے التجا کرے اور انتہائی عجزو نیاز اور کمال تضرع وزاری کے ساتھ اپنے حل مشکل کی دعا کرکے دو ضربی ذکر شروع کرے۔ ۔

ھذا ماعندنا واللہ اعلم بالصواب                                  

شیر محمد خان مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف

                ضیاء المصطفی نائب مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف
                                                                                            محمد شعیب رکن دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف

شیئر کریں:
ماخذ: آف لائن تحریری ریکارڈ