سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اندر ایں مسئلہ کہ میت کے پاس قرآن پاک کی تلاوت کرنا کیسا ہے؟ بینوا تؤجروا۔
جواب
الجواب بعون الملک الوھاب
بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیا
میت کو غسل دینے سے پہلے اگر تلاوت کرنا ہو تو میت کے پورے جسم کو ڈھانپ کر کر سکتے ہیں اور غسل دینے کے بعد تلاوت کر سکتے ہیں۔
در مختار میں ہے۔ تُكْرَهُ الْقِرَاءَةُ عِنْدَهُ حَتَّى يُغَسَّلَ، وَعَلَّلَهُ الشُّرُنْبُلَالِيُّ فِي إمْدَادِ الْفَتَّاحِ تَنْزِيهًا لِلْقُرْآنِ عَنْ نَجَاسَةِ الْمَيِّتِ لِتَنَجُّسِهِ بِالْمَوْتِ۔ (درمختار، جلد2، صفحہ 193)
فتاوی شامی میں ہے۔ قُلْت: وَالظَّاهِرُ أَنَّ هَذَا أَيْضًا إذَا لَمْ يَكُنْ الْمَيِّتُ مُسَجًّى بِثَوْبٍ يَسْتُرُ جَمِيعَ بَدَنِهِ لِأَنَّهُ لَوْ صَلَّى فَوْقَ نَجَاسَةٍ عَلَى حَائِلٍ مِنْ ثَوْبٍ أَوْ حَصِيرٍ لَا يُكْرَهُ فِيمَا يَظْهَرُ فَكَذَا إذَا قَرَأَ عِنْدَ نَجَاسَةٍ مَسْتُورَةٍ ۔ (فتاوی شامی، جلد2، صفحہ 194)
درر الحکام شرح غرر الحکام ، البحر الرائق، مراقی الفلاح ، نور الایضاح ، فتاوی عالمگیری اور تبیین الحقائق میں ہے۔ وَتُكْرَهُ قِرَاءَةُ الْقُرْآنِ عِنْدَهُ حَتَّى يُغَسَّلَ ۔ (تبیین الحقائق، جلد1، صفحہ 235)
ترجمہ: میّت کے پاس قرآن مجید کی تلاوت کرنا مکروہ ہےیہاں تک کہ اسے غسل دے دیاجائے۔
مجمع الانھر فی شرح ملتقی الابحر میں ہے۔ قِرَاءَةالْقُرْآنِ مَكْرُوهٌ عِنْدَهُ حَتَّى يُغَسَّلَ ۔ (مجمع الانہر فی شرح ملتقی الابحر، جلد1، صفحہ 179)
بہار شریعت میں ہے۔ میّت کے پاس تلاوتِ قرآن مجید جائز ہے ،جبکہ اس کا تمام بدن کپڑے سے چھپا ہو اور تسبیح و دیگر اذکار ميں مطلقاً حرج نہیں۔
(بہار شریعت ،جلد1،حصہ4،صفحہ809)
ھذا ماعندنا واللہ اعلم بالصواب
شیر محمد خان مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف
محمد شعیب رکن دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف
تاریخ ۔2026۔06۔06